Tuesday, January 07, 2020

Darde Judai Novel By Shafaq Kazmi Pdf Free Download

Darde Judai Novel By Shafaq Kazmi Pdf Free Download


darde judai

The story of the Darde Judai Novel is about ISI and our anonymous heroes, who, regardless of their lives, turned their backs on the traitors of the country and proudly raised the heads of the country and the nation and said that the enemy, in whatever form we look, Can't escape. And the story of a girl who had no one left her alone. But she was a strange girl. She hated the decisions imposed on her. She wanted to live life in her own way He hated to love. He hated people imposed on him. He hated the rules and regulations of society. But she was part of the society.

Read:

Darde Judai Novel Complete


ماما مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے باہر گھومنے کے لئے لے جاؤ ناں
 پلیز ماما۔۔۔ننھی عدن ماما کو تنگ کرنے لگی۔۔۔
تنگ نہیں کرو۔۔۔ عدن میں نہیں لے کر جا رہی تمہیں لے جا کر شرم آتی ہے ہمیں ایک تو لوگ بھی پہچان لیتے ہیں تمہیں دیکھ کرکہ کس گھر کی خواتین ہیں۔۔۔۔۔ میں اور تمہاری آپی جا رہے ہیں۔۔
ماما پلیز ناں مجھے لے جاؤ ماما آپ کو کیوں شرم آتی ہے مجھے لے جا کر۔

۔۔۔ کیا میں اتنی بری ہوں؟
تنگ نہیں کرو۔۔۔ اور گھر پر بیٹھو۔۔۔
ننھی عدن گھر بیٹھ کر روتی رہی۔۔۔
آخر کیوں ماما آپ مجھے کہیں نہیں لے کر جاتی آخر کیوں آپ کو اتنی شرم آتی مجھ سے کیا میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔۔۔
بچے تو بچے ہوتے ہیں۔۔۔عزت نفس تو ان کی بھی ہوتی ہے۔۔بچے کو ایسی بات نہ کی جائے کہ ان کا دل ہی ٹوٹ جائے۔




۔بلکہ انہیں پیار اور نرمی سے اصل وجہ سمجھا دی جائے تو نہ صرف وہ بات مان لیتے ہیں۔۔۔بلکہ کسی قسم کے عدم تحفظ اور غلط فہمی کا شکار بھی نہیں ہوتے۔

عدن نے ہمیشہ ہی اس قسم کے رویے سہے تھے۔۔۔۔اس کی بات یا تو سنی ہی نہ جاتی اگر سن بھی لی جاتی تو جھڑک دیا جاتا۔۔۔
عدن کی دو بہنیں میرب اور زرنش تھیں۔۔۔
دونوں عدن سے بڑی تھیں۔
۔۔
عدن شروع سے ہی اپنی بڑی بہنوں کے ساتھ رہتی تھی ان کے ساتھ سوتی تھی۔۔۔ تو کبھی ماما سے اتنی خاص اٹیچ نہیں تھی۔۔
عدن تمہیں پتہ ہم لوگ گھومنے گئے تھے پوری فیملی بہت مزہ آیا تھا۔۔۔
ویسے سب کہیں نہ کہیں ویکینڈ پر گھومنے گئے تھے۔۔۔
عدن تم نہیں گئی کیا۔۔۔۔حریم نے عدن سے پوچھا۔۔حریم عدن کی دوست تھی۔۔۔
نہیں یار ہم کہیں بھی نہیں گئے۔
۔۔
کیوں عدن؟

بس کسی کو گھومنے کا شوق نہیں تبھی عدن منہ بنا تے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ہاں پر ماما اور بہنیں شاپنگ کرنے گئے تھے
تو تم نہیں گئی؟

یار چلو کلاس میں دیر ہو رہی شاید مس آمنہ آگئی ہیں۔۔۔عدن نے بات کو چینج کر دیا یکدم۔۔۔
ہاں اچھا چلو۔۔۔
یار بتاؤ نہ تم نہیں گئی شاپنگ پر۔۔۔حریم نے کلاس روم جاتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
۔۔
عدن کو ایک ہی بات بار بار ڈسکس کرنا اچھا نہ لگا۔۔اب وہ کیا بتاتی۔۔۔عدن اپنی دوست کو کل والا واقعہ بتانے میں شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ عدن نے بات بدلتے ہوئے کہا
یار آج تو مس نے ٹیسٹ بھی دیا تھا مجھے ایک نظر دیکھنا ہے۔۔۔ 
اوکے چلو۔۔۔۔۔۔۔

ماما کیسی ہیں آپ؟ عدن ماما کے پاس لیٹ کر بولی۔۔۔۔
عدن میرے پاس نہیں لیٹو روم میں جاؤ مجھے تمہاری عادت نہیں ہے میرے جسم میں درد ہو تا ہے۔
۔۔
عدن اُداس ہو کر اپنے روم میں آگئی۔۔
آپی کیا کر رہی ہو۔۔۔۔ عدن نے میرب سے پوچھا۔۔۔
عدن پلیز مجھے پڑھنے دو میں اخبار پڑھ رہی ہوں۔۔۔
مجھے بھی گیم کھیلنی ہے۔۔مجھے بھی کھیلا ؤ پلیز۔۔۔۔۔۔عدن نے زرنش کو کہا۔۔۔۔
عدن کیا مسئلہ ہے کھیلنے دو مجھے ابھی۔۔۔۔۔۔۔آجاتی ہو ہر وقت تنگ کرنے ابھی تو لیپ ٹاپ اُٹھایا ہے۔
۔
ماما زرنش کو کہیں نہ مجھے بھی گیم کھیلائے اپنے ساتھ۔۔۔
نہیں ماما میں نے ابھی لیپ ٹاپ لیا اس کو کہیں کچھ اور کر لے۔۔
عدن بڑی بہن ہے تنگ نہ کرو۔ اس کو لیپ ٹاپ۔
پر ماما۔۔
پر۔۔۔ور کچھ نہیں جاؤ اسکول کا کام کرو
عدن مایوس ہو کر گلی میں کھیلنے چلی گی
عدن سو جاؤ دوپہر کا ٹائم ہے۔۔۔۔۔ماما نے عدن سے کہا۔
۔۔
نہیں ماما مجھے نیند نہیں آتی دوپہر کو۔۔۔۔
گھر میں سب سو رہے تھے بس عدن جاگ رہی تھی۔۔۔۔
بھائی سب سو گئے میں بور ہو رہی ہوں۔۔۔ آپ میرے ساتھ کھیلو۔۔۔

گھر میں جو لڑکا کام کرتا تھا عدن اس سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔کے اتنے میں باہر گلی سے بال آگئی بچے کرکٹ کھیل رہے تھے 
افف بھائی بال آگئی۔۔۔ اب دیکھنا یہ سب شور مچا دیں گے سب سو رہے ہیں جاگ جائیں گے۔
۔۔۔
عدن نے بال اُٹھا کر گلی میں پھینک دی تاکہ کوئی دروازہ نہ بجائے۔۔۔
اتنے میں بچوں نے زور سے دروازہ بجانا شروع کردیا ہماری بال دو۔۔۔
ارے یار پھینک تو دی ہے چیک کرو۔۔۔
بھائی بال آگئی۔۔۔اتنے میں کسی نے اس کو کہا۔۔۔
اوہ اوکے سوری۔۔۔۔۔
عدن کس سے باتیں کر رہی ہو اندر آؤ۔۔۔۔ ماما کی آواز آئی ماما نیند میں تھی۔
۔۔۔
ماما کچھ نہیں آپ سو جاؤ۔۔۔
میں کہتی ہوں اندر آؤ
عدن افف ماما۔۔۔۔

عدن جیسے اندر آئی ماما نے مارنا شروع کردیا۔۔۔۔۔ شرم نہیں آتی لڑکوں کے ساتھ کھیلتی ہو۔۔۔۔
نہیں ماما میں لڑکوں ساتھ نہیں کھیل رہی تھی آپ بھائی سے پوچھ لو۔۔۔۔
بکواس بند کرو۔۔۔۔ ماں ساتھ جھوٹ بولتی ہو۔۔۔
آہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔ماما سچ بول رہی ہوں۔

۔۔ ماما نے عدن کے کان زور سے پکڑے تھے
بی بی جی عدن میرے ساتھ کھیل رہی تھی یہ باہر نہیں گئی تھی۔۔
تم چپ کرو اس کی سائیڈ لے رہے ہو۔۔۔۔ ماما نے عدن کو اتنا مارا کے اس کے جسم میں درد شروع ہوگیا وہ سارا دن سوئی رہی۔۔۔ہمت ہی نہیں تھی اُٹھنے کی۔۔۔۔
ہائے آج میں نے اپنی بچی کو بہت مارا۔۔۔۔ماما نے عدن کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔۔۔
ماما کیوں مارا آپ نے۔۔۔۔ میرب نے سوال کیا۔۔۔
لڑکوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔۔۔
نہیں میں نہیں کھیل رہی تھی لڑکوں ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
بکواس نہیں کرو ماں ساتھ جھوٹ بولتی ہو۔۔۔۔۔ ماما نے عدن کو ایک تھپڑ لگایا عدن کے بدن میں ویسے ہی درد تھا اٹھا نہیں جا رہا تھا وہ واپس سے ہی گر گئی اور سو گئی۔۔۔۔۔۔

عدن اٹھو اسکول جانا ہے نہ آج جلدی سے تیار ہو جاؤ۔۔۔میرب آپی نے عدن کو اٹھایا۔۔۔
اچھا آپی۔۔۔۔۔۔ افففف۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔
عدن اٹھ رہی تھی اس کو درد بھی ہو رہا تھا
کیا ہوا عدن؟ تم ٹھیک تو ہو؟
جی آپی۔۔۔ بس درد ہو رہا ہے جسم میں۔۔۔۔
تو تم بھی نہ کھیلتی نہ لڑکوں کے ساتھ۔۔۔۔۔
آپی پلیز آپ بھی اب۔۔۔۔۔ میں نہیں کھیل رہی تھی۔
۔۔۔سچ میں۔۔۔
اچھا تیار ہو جلدی سے۔۔۔۔ورنہ بس نکل گئی تو آج پھر سرونٹ کو جانا پڑے گا تمہیں چھوڑنے۔۔۔۔۔
نہیں آپی مجھے نہیں جانا سرونٹ ساتھ۔۔۔۔۔
تم کیوں نہیں جاتی اس کے ساتھ۔۔
آپی مجھے بس میں مزہ آتا ہے۔۔۔سب دوست ہوتے سب سے باتیں کرتے ہیں۔۔بہت مزہ آتا ہے۔۔۔گھر میں تو کسی کے پاس ٹائم ہی نہیں مجھ سے بات کرنے کا۔


۔۔۔۔۔۔۔
ہیں۔۔۔۔۔یہ کس نے کہ دیا تم سے۔۔۔۔
خیر چھوڑیں میں جا رہی ہوں۔۔۔
اللّہ حافظ۔۔۔۔۔
اوئے عدن کیسی ہے؟ حریم نے زور سے عدن کی کمر پر تھپڑ مار کر کہا۔۔۔۔
آ ہ ہ ہ نہ کر یار درد ہو رہا ہے۔۔۔
کیوں تجھے کیوں درد ہو رہا ہے۔۔۔۔

یار وہ مجھے لگتا میری ہڈیوں کوبخار ہو رہا ہے۔۔۔ اب وہ کیا بتا تی۔۔عزت نفس تو سب کی ہوتی ہے۔
۔اس کا جی ہی نہ چاہا کہ وہ اپنی واحد دوست کو اپنی مار کے بارے بتا کر اپنی عزت نفس کو مجروح کرے۔۔۔
ہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہا۔۔ عدن پلیز تو ڈاکٹر نہ بننا۔۔۔

میں تو ڈاکٹر بھی بنو گی۔۔۔انجینئر بھی پائلٹ بھی رائیٹر بھی۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔پاس سے گزرنے والی لڑکیاں ان دو معصوم بچوں کی باتیں سن کر ہنسنے لگیں۔۔۔۔
یار یہ ہنس کیوں رہی ہیں۔
۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔لگتا تمہاری کامیابی سے جل رہی ہیں۔۔حریم نے شرارتی اندازمیں عدن سے کہا۔۔۔۔۔
عدن حریم کی بات سن کر فخر سے مسکرانے لگی۔۔۔وہ تھی ہی ایسی معصوم اور بے ضرر۔۔۔اکیلے پن اور عدم توجہ کی وجہ سے اس کی ذہین آنکھوں کی چمک کچھ پل کیلئے مدہم ضرور ہو جاتی تھی۔۔لیکن۔۔۔بچے تو بچے ہوتے ہیں۔۔ان کا دل کورے کاغذ جیسا صاف ہوتاہے۔

اک لمحے روتے ہیں۔۔۔دوسرے لمحے سب بھول بھال کے ان دیکھے جزیرے فتح کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔
چل عدن کلاس میں چلیں۔۔۔۔
اچھا اُٹھ جلدی۔۔۔۔۔
زرنش اپنی دوستوں کے ساتھ سکول گارڈ کا مذاق اُڑا رہی تھی۔۔سکول کے سب بچے سکول گارڈ کو اس کے چڑ چڑے پن کی وجہ سے گٹھلی بلاتے تھے۔۔
عدن نے جب گٹھلی انکل کا نام سنا اور باتیں سنیں تو زرنش سے پوچھنے لگی۔
۔
زرنش۔۔۔زرنش یہ گٹھلی انکل کون ہیں۔۔۔۔۔۔؟ عدن زرنش کے پاس آکر بیٹھی
میرا چا چا ہے اور کون ہے۔۔۔۔ زرنش ویسے ہی غصے میں تھی عدن کو دیکھ کر اور غصہ آتا تھا اس کو۔۔۔
عدن ہر بات پر سیریس ہو جاتی تھی۔۔۔۔ یار وہ تیرا چا چا ہے تو مطلب میرا بھی چا چا ہے۔۔۔۔
عدن تنگ نہیں کر جا کام کر اپنا.۔۔۔۔

سُن نہیں کروں گی تنگ کیا گٹھلی انکل میرے بھی چا چو ہوئے؟
ہاں تیرا بھی چاچا ہوا اب جا۔
۔۔۔۔
لیکن ہمارا چاچا ہم سے ملنے کیوں نہیں آیا اب تک۔۔۔۔ کیا وہ ہم سے پیار نہیں کرتا؟
عدن جا کام کر اپنا۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔دفع ہو کالی چڑیل۔۔۔۔
یار حریم تجھے ایک بات بتاؤں۔۔۔۔
کسی کو بتانا نہیں۔۔۔۔
ہاں بتا کیا ہوا۔۔۔۔حریم بھی بیٹھ گئی عدن کے پاس۔۔۔۔۔
یار وہ جو گٹھلی انکل ہیں نہ وہ میرے چاچو ہیں۔
۔۔۔۔۔
کیا؟ گٹھلی انکل تیرے چاچو ہیں؟ ہاہاہا تو پاگل ہے
نہیں میں سچ کہ رہی ہوں مجھے زرنش نے بتایا ہے۔۔عدن اپنے لہجے کو پر اسرار بناتے ہوئے بولی
ہیں سچ میں وہ تمہارے چاچو ہیں؟ پر تم سے ملنے نہیں آتے؟
نہیں چاچو ہم سے پیار ہی نہیں کرتے۔۔۔
چھوڑ عدن دفع کر۔۔۔۔۔
ہاں دفع ہو۔۔۔۔۔
آپی بات سنیں گٹھلی انکل کیا سچ میں میرے چاچو ہیں۔
۔۔۔۔؟ عدن کو صبر ہی نہیں آرہا تھا
کیا یہ کس نے بکواس کی۔۔۔۔

آپی وہ زرنش کہ رہی تھی کے گٹھلی انکل ہمارے چاچو ہیں۔
عدن تم بھی کس کی باتوں میں آجاتی ہو.۔۔۔۔۔پتہ تو ہے اس کی عادت ہے ہر وقت مذاق کرنے کی
کیا اس کا مطلب زرنش نے مذاق کیا تھا۔۔۔۔۔
ہاں تو اور کیا حد ہے ویسے عدن۔۔۔۔

آپی میں نے اسکول میں سب کو بتا دیا سب میرا مذاق اُڑا رہے تھے۔۔۔۔۔
زرنش کو نہیں چھوڑوں گی میں۔۔۔۔

چھوڑو عدن غلطی تمہاری اس کی باتوں میں آگئی۔۔ دفع کرو جانے دو اسے کچھ کہو گی تووہ ماما سے شکایت کرے گی پھر تمہیں ماما سے ڈانٹ پڑجائے گی۔۔۔۔۔
اوکے آپی۔۔۔۔۔۔

یار حریم بات سنو۔۔ عدن حریم کے پاس سیڑیوں میں آکر بیٹھ گئی۔۔حریم ہر وقت سیڑیوں میں بیٹھی رہتی۔۔جیسے اس کو سکون ملتا ہو سیڑیوں میں بیٹھنے سے۔۔۔۔۔حریم نے کلاس بنک کی تو مطلب وہ اسکول میں کہیں نہ کہیں سیڑیوں میں بیٹھی ہو گی۔۔۔ویسے اسکول تھا بہت بڑا پر حریم کو ڈھونڈنے کے لئے اسکول میں جہاں جہاں سیڑیاں ہوں بس وہاں جا کر ڈھونڈ لو۔۔۔۔
یار حریم ایک تو تم بھی نہ ہر وقت سیڑیوں میں بیٹھی رہتی ہو۔

۔۔۔تمہیں پتہ ہے تمہارے ساتھ رہ رہ کر میری بھی عادت یہی ہو گئی ہے ہر وقت سیڑیوں میں بیٹھنے کی۔۔۔۔کل تو حد ہو گئی میں بیٹھی تھی سیڑیوں میں زرنش آگئی میری گود میں ایک روپے کا سکہ ڈال دیا میں نے کہا یہ کیا ہے۔۔۔۔ کہتی سیڑیوں میں بیٹھی ہو بھکاری لگ رہی ہو لو یہ لو بھیک۔


ہاہاہاہاہاہا افففففف پھر۔۔۔۔۔۔ حریم پانی پی رہی تھی۔۔۔ عدن کی اس بات پر اس سے کنٹرول نہیں ہوا اور منہ میں جتنا بھی پانی تھا اس نے سیڑیوں کی دوسری طرف گلاب کے پھولوں پر گرا دیا۔
۔
یار حریم اففف کیا کر رہی ہو انسان کی بچی بن جاؤ۔۔۔۔۔ مالی نے دیکھ لیا تو ڈانٹے گا یار.۔۔۔ عدن ویسے ہی بہت ڈر پوک تھی حریم کی اس حرکت پر اس کے ہاتھ ہی کانپنے لگ گئے تھے۔۔

ارے میری جان۔۔۔کس سے ڈرتی ہو اتنا۔۔۔۔ یہ ڈرنا ورنہ چھوڑ دو ڈرپوک لڑکی۔۔ اور وہ دیکھو سامنے مالی چاچا آرہا ہے اور ساتھ تمہارا گٹھلی چاچا بھی آرہا ہے۔ ہاہاہا کہو تو میں گٹھلی چاچا سے پوچھو کے اپنی بھتیجی سے کیوں نہیں ملتا ۔
ہاہاہاہا۔۔۔حریم نے اُٹھ کر بوتل میں جتنا بھی پانی تھا پھولوں میں ڈال دیا۔۔جان کر عدن کو تنگ کرنے میں حریم کو مزہ آتا تھا۔۔۔۔۔پانی گرا کر واپس آکر بیٹھ گئی۔۔

ارے یہ کیا ،کیا یار سارا پانی ہی گرا دیا تم نے۔۔۔حد ہوتی ہے یار۔۔۔ اور یہ ڈر پوک کس کو کہا۔۔میں ڈر پوک نہیں ہوں حریم نے سٹائل سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔۔۔۔۔
ارے یہ گٹھلی یار۔

۔پانی کس نے ڈالا ہے پھولوں میں۔۔۔۔۔ میں نے تو نہیں ڈالا۔۔۔۔ مالی بابا کی جیسے ہی پھولوں پر نظر پڑھی انہوں نے سر کھجاتے ہوئے گٹھلی انکل سے کہا۔۔
ارے تیری چھمک چھلو نے ڈالا ہو گا۔۔گٹھلی چاچا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے ہر وقت مالی کو چھیڑتے رہتے تھے.۔۔

ہیں۔۔۔۔میری کون سی چھمک چھلو ہے؟
بس بس بھولا نہ بن۔
۔۔ وہ سموسے والی ہر وقت تیرے آگے پیچھے گھومتی مگر تو ہے کے لفٹ ہی نہیں کرواتا۔۔ تو تو مس عروج کو ہی دیکھتا رہتا ہے۔۔۔

ارے یار نہیں وہ تو ٹیچر ہے اور میں مالی ہوں چھوڑ نہ کہاں وہ کہاں میں۔۔۔۔مالی کی آنکھوں میں اُداسی سی چھا گئی تھی۔۔
انکل یہ پانی تو عدن نے ڈالا ہے۔۔۔ حریم نے پھر سے عدن کو تنگ کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔
کیا ممم۔
۔۔میں۔۔میں نے؟ نہیں یہ جھوٹ کہ رہی ہے۔۔پہلے تو عدن ہڑبڑا گئی پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولی۔۔۔۔
یہ دو بدتمیز لڑکیاں ضرور پھول توڑ رہی ہوں گی ابھی میڈم کے پاس لے کر جاتا ہوں فائن لگے گا تب ان کو مزہ آئے گا۔۔۔ گٹھلی انکل نے غصے سے کہا ان کی تو تیوریاں ہر وقت ماتھے پر رہتیں، غصہ ناک پر اور مزاج سڑا ہو رہتا انکا۔۔۔۔
عدن کے ڈر کے مارے ہاتھ کانپنا شروع ہوگئے نہ ہی وہ اتنی تیز تھی کے کوئی بات بنا سکے۔
۔۔
حریم نے عدن کا ہاتھ پکڑ لیا وہ سمجھ گئی تھی اب عدن رونا شروع کر دے گی۔۔۔
اوہ انکل خود کو سمجھتے کیا ہو۔۔۔۔ میڈم کے پاس لے کر جاؤ گے ،ہاہاہا اچھا چلو چلتے ہیں۔۔۔

کیا کہو گے بچوں نے پھول توڑا۔۔۔ لیکن ہمارے ہاتھ میں تو کوئی پھول ہے ہی نہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی یہی آئے گا کے ہم پانی دے رہے ہیں پھولوں کو نہ کے توڑ رہے ہیں ہماری ٹیچر بھی ہمیں کہتی پھولوں کو پانی دینا چاہئے۔
۔۔ پر ہاں ہم نے آپ کی باتیں ضرور سن لی ہیں توبہ ٹیچر عروج جیسی مقدس ہستی کے بارے میں اتنا گھٹیا لفظ سنتے ہی میرے کانوں کے پردے پھٹ گئے اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی، خدا کی پناہ کوئی شخص ٹیچر کو چھمک چھلو کیسے کہ سکتا ہے۔۔

ارے۔۔۔ارے بیٹا۔۔۔۔ میں تو بس مذاق کر رہا تھا لیکن تم تو غصہ ہی ہو گئی پھول توڑنا ہے تو بیشک توڑ لو ہم کچھ نہیں کہیں گے۔

۔۔ گٹھلی چاچا اور مالی بابا پریشان ہو گئے تھے۔۔۔
ہاہاہا ۔۔۔تاکہ آپ لوگ ہمیں پکڑ لیں اور میڈم سے ڈانٹ پڑھوا دیں۔۔۔۔ عدن کے چاچا ایک بات سن لو یہ بے وقوف کسی اور کو بنانا،چلو عدن کلاس میں۔۔۔۔

بھائی یہ تو بہت تیز بچی ہے توبہ۔۔
قینچی کی طرح زبان چلتی ہے اس کی۔۔۔۔لیکن ایک بات ہے اس نے آپ کو عدن کا چاچا کیوں کہا۔۔۔ کیا وہ آپ کی بھتیجی ہے؟ مالی نے پھر سر کھجاتے ہوئے کہا۔
۔.
میں نہیں جانتا اور نہ ہی میری بھتیجی ہے۔۔ ایسی بھتیجی تو خدا کسی کو نہ دے دو منٹ میں ایسی کی تیسی کر گئی۔۔۔اور تو سر کم کھجایا کر۔۔۔۔چل چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔.
وہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے
ہاہاہا۔
۔۔۔ عدن کیسا ہے اچھا ہے نہ میں نے کل کہیں پڑھا تھا یہ اس مالی پر فٹ ہے ہاہاہا۔۔۔

حریم کی بچی یہ کیا حرکت کی تم نے یار مجھے ہی پھنسا دیا تھا تم نے۔۔۔ اور گٹھلی انکل کو تم نے کیوں اتنا سب سنا دیا۔۔۔
اوہ ہیلو مس دیوداس اگر میں ایسا نہ کہتی تو میڈم کے پاس لے جاتا اور وہ کالی چڑیل ہماری ایسی کی تیسی کر دیتی۔۔۔۔اور رہی بات تمہاری تو سچ کہوں کبھی کبھی مجھے تمہاری فکر ہوتی پتہ نہیں کیا بنے گا تمہارا جیسے ابھی ہاتھ کانپنے لگ گئے تھے۔
۔میں نہ ہوتی تو پتہ نہیں تمہارا کیا ہوتا۔۔
تم نہ ہوتی تو یہ بھی نہ ہوتا ،ہاہاہا۔۔۔۔عدن نے حریم کا مذاق اڑایا۔۔۔۔۔
چل اب اتنی بھی عزت نہ کر مجھے شرم آرہی۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔
ویسے تو ہنستے ہوئے بہت اچھی لگتی عدن۔۔۔ہنسا کر۔۔۔

 حریم یار پلیز تو مجھے کبھی چھوڑ کر نہ جانا۔۔۔۔عدن کی آنکھوں میں اُداسی سی چھا گئی اور حریم کو کھونے کا خوف عدن کے چہرے پر صاف دکھائی دے رہا تھا۔
۔۔
نہیں کبھی نہیں جاؤں گی پر تم ایسے کیوں کہ رہی ہو۔۔۔۔.
نہیں بس ایسے ہی کہ دیا۔۔اچھا چھوڑو میں نے تم سے یہ پوچھنا تھا کے یہ فیس بک کیا ہے یار۔۔۔میں نے زرنش اور اس کی دوست کو کہتے سنا تھا پر میرے پوچھنے پر انہوں نے نہیں بتایا.۔۔۔ تم بتاؤ نہ۔۔۔۔۔عدن نے بات چینج کر دی۔۔۔شاید وہ ہر بات دل میں ہی رکھنا پسند کرتی تھی۔۔۔۔
یار دیکھ فیس مطلب چہرہ، بک مطلب کتاب۔

۔۔ یہ کسی کتاب کا نام ہوگا جس کو پڑھ کر آپ کسی کا بھی چہرہ پڑھ سکتے ہو۔۔حریم سب جانتی تھی پر وہ عدن کے ساتھ مذاق کر رہی تھی۔ عدن ویسے ہی ہر بات پر یقین کر لیتی تھی۔۔ اس نے اس پر بھی یقین کر لیا تھا۔۔ حریم نے سوچا اس کو گھر جاتے وقت بتا دوں گی کہ فیس بک کیا ہے۔۔کیوں کہ حریم اور عدن دونوں ہی اسکول بس میں آتے جاتے تھے۔۔۔ پر حریم کا گھر پہلے آتا تھا،عدن کا دور تھا۔۔ لیکن حریم کے ذہن میں ہی نہیں رہا عدن کو بتانا۔۔۔۔

انکل انکل یہ فیس بک کتنے کی ملے گی۔ مجھے چاہیے۔۔۔عدن بک شاپ والے سے پوچھنے لگی جو شاپ میں رکھی کتابوں کو ترتیب سے رکھ رہا تھا۔ عدن کی بات سن کر وہ عجیب سی نظروں سے عدن کو دیکھنے لگ گیا۔۔
بیٹا یہ فیس بک کہیں سے بھی نہیں ملے گی۔۔۔
ہیں پر کیوں۔۔۔ بک ہے آخر کہیں نہ کہیں سے تو ملے گی نہ۔۔۔
پاس کھڑے لڑکے آپس میں ہسنے لگ گئے اور ان کے ساتھ ساتھ شاپ والا بھی ہسنے لگ گیا۔
۔۔۔ عدن کو شرمندگی محسوس ہوئی اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔عدن وہاں سے چلنے لگی۔
اچھا بیٹا سُنو۔۔۔۔ شاپ والے نے سمجھانے کی غرض سے عدن کو بلایا.۔۔
اس سے پہلے شاپ والا کچھ سمجھاتا عدن شاپ والے انکل کی بات ان سنی کر کے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔
کیا ہوا عدن ایسے کیوں بیٹھی ہو۔


۔۔۔ سماویہ گزر رہا تھا کہ عدن کو ایک جگہ اُداس بیٹھے دیکھا آنکھوں میں نمی بھی تھی۔

۔۔ سماویہ عدن کی گلی میں رہتا تھا۔۔عدن اس کی نظر میں بچوں کی طرح تھی۔۔
کچھ نہیں سماویہ بھائی۔۔۔ عدن نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔۔
عدن بچہ بتاؤ بھی کیا ہوا ہے۔۔

بھائی وہ دراصل میں نے زرنش کو فیس بک کے بارے میں کہتے سنا تھا کچھ وہ اپنی دوست سے کہ رہی تھی پر میرے پوچھنے پر اس نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا پھر میں نے اپنی دوست حریم سے پوچھا اس نے کہا بک ہے، شاپ سے ملے گی۔
۔۔ میں شاپ گئی سب میرا مذاق اُڑانے لگے۔۔۔بتاتے بتاتے عدن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔ عدن تم بھی نہ اتنی معصوم ہو حد ہے۔۔۔۔۔فیس بک ایک ایپلیکیشن ہے اب یہ وہ والی ایپلیکیشن نہیں ہے۔جو ہم اسکول میں دیتے ہیں۔۔۔۔۔اس میں لوگوں سے باتیں کرتے ہیں۔۔دوست بناتے ہیں۔۔۔۔سماویہ نے فیس بک کے بارے میں سب کچھ سمجھا دیا۔۔۔
پر حریم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا۔۔۔
اوہ ہو عدن وہ بھی تو بچی ہے تمہاری طرح کیا پتہ اس کو بھی پتہ نہ ہو اس نے بھی ایسے ہی کہ دیا ہو۔۔۔
ہممم۔۔۔ ہو سکتا ہے۔۔۔۔ ورنہ وہ ہر بات مجھے بتاتی۔۔۔۔میری بہت اچھی دوست ہے۔۔۔۔ خیر کل جا کر میں اس کو بتا دوں گی۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔ اچھا جی۔۔
جی بھائی۔۔میں بھی بناؤں اکاؤنٹ فیس بک پر۔
۔؟
نہیں بلکل نہیں ابھی تم بچی ہو.۔۔۔۔ اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔۔۔۔۔چھوڑو یہ فیس بک وغیرہ۔۔۔۔۔
ہممممم۔۔ اچھا بھائی میں چلتی ہوں۔۔۔اسکول کا کام بھی کرنا ہے۔۔
اوکے گڈ جاؤ۔۔۔۔
                                         ####
اوئے حریم یار تو نے غلط کہا تھا فیس بک کوئی بک نہیں ہے یار کل میں شاپ پر گئی تھی اس نے تو میری بے عزتی ہی کردی۔

۔۔۔اسمبلی میں ہی عدن شروع ہوگئی، آگے حریم تھی پیچھے عدن.۔۔۔۔
اُف۔۔۔ تو شاپ پر چلی گئی تھی۔۔حریم پیچھے مڑ کر بولی۔۔۔ اتنے میں سی آر نے آکر حریم کو غصے میں سیدھا کیا۔۔۔۔عدن تو پہلے ہی سیدھی تھی۔۔
سی آر کے جاتے ہی حریم پھر پیچھے مڑ کر بولنے لگی۔۔۔ یار تو سچ میں پاگل تو نہیں ہے۔۔۔حریم کو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔.
نہیں جناب صرف میں ہی نہیں آپ بھی پاگل ہیں۔

۔۔۔ آپ نے تو چہرہ پڑھنے والی کتاب کا کہ دیا تھا۔۔۔عدن آنکھیں گھماتے ہوئے سٹائل سے بولی۔۔لیکن میں نے سماویہ بھائی سے پوچھ لیا انہوں نے مجھے سب بتا دیا۔۔۔۔ اب آگے دیکھ ورنہ سی آر آجائے گی۔۔میں تجھے کلاس میں جا کر سب بتاؤں گی۔عدن کی اتنی معصومیت پر حریم زور سے ہنسنے لگی جس پر سی آر نے لائن سے ہی نکال دیا۔۔۔
میڈم یہ دونوں مسلسل باتیں کر رہی تھیں.۔

۔۔ میں نے روکا بھی پھر بھی میری بات نہیں سنی۔۔۔سی آر میڈم کے آفس لے گئی دونوں کو۔۔
عدن کی آنکھوں سے تو اتنے آنسو گرنے لگے کے میڈم خود اُٹھ کر پانی پلانے پر مجبور ہو گئیں۔۔۔۔عدن بیٹا چپ ہو جائیں۔۔! کیوں رو رہی ہیں۔۔؟

میڈم وہ دراصل عدن کو چکر آگئے تھے اس کو پانی پینا تھا۔۔میں نے اس کو کہا جا کر پانی پی لو ورنہ طبیعت زیادہ خراب ہو جائے گی ویسے بھی میڈم یہاں کا اصول ہے جب واش روم جانا ہو یا طبیعت خراب ہو رہی ہو تو پانی پینے جا سکتے ہیں یا پھر کلاس میں جا سکتے ہیں۔

۔ لیکن سی آر نے ہمیں لائن سے ہی نکال دیا۔۔۔۔ میڈم حریم۔ کی بات سن رہی تھی کہ اُنکے موبائل میں میسج آگیا میڈم نے موبائل اُٹھایا میسج پڑھنے کے لئے۔۔۔ حریم نے عدن کو ہلکا سا دھکا دیا جس پر عدن سائیڈ پر جا گری وہ ویسے ہی اتنی کمزور سی تھی ہلکی سی ہوا بھی اُسے لے اڑتی۔۔
ارے عدن بیٹا۔۔۔۔ میڈم نے یکدم دیکھا۔۔۔

میڈم دیکھیں نہ میری دوست کو چکر آرہے اُپر سے سی آر نے ہماری بات بھی نہ سنی۔
۔۔۔اتنی دیر کھڑا کردیا تھا۔۔۔ سی آر حیرانی سے حریم کی حرکتیں دیکھ رہی تھی۔
تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔۔۔بچی کی اتنی طبیعت خراب تھی اوپر سے تم نے اتنی دیر تک کھڑا کردیا۔۔۔۔
میڈم یہ۔۔یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔

چپ بس جاؤ کلاس میں۔۔۔ عدن بیٹا زیادہ طبیعت خراب ہے تو میں ہسپتال لے جاؤں ابھی ایمبولینس بلاتی ہوں۔۔۔
نہیں میڈم میں بلکل ٹھیک ہوں۔
۔۔
میڈم اس کا مطلب ہے کوئی فکر کی بات نہیں یہ پڑھ لے گی اور ویسے بھی آپ کہتی ہیں نہ ہمیں اپنے وطن کے لئے کچھ کرنا چاہئے تو ہم پڑھیں گے دل لگا کر تبھی تو کچھ کر سکیں گے اپنے وطن کے لئے۔۔۔حریم عدن کو گھورتے ہوئے بولی۔۔۔
میڈم حریم کی بات سن کر مسکرانے لگیں۔۔۔۔ دونوں کو پیار کیا اور کلاس میں بھیج دیا۔۔۔
اوکے میڈم شکریہ۔

۔۔۔۔۔۔چلو آؤ عدن میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں لے جاؤں۔۔۔۔

یہ سب کیا تھا حریم۔۔۔۔۔

کیا تھا مطلب کیا تھا۔۔۔۔کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔حریم لاپرواہ ہو کر بولی۔۔۔۔
حد ہوتی ہے۔۔۔عدن چڑ کر بولی۔۔۔
ہاں تو میں نہ ہوتی تو تم آج میڈم کی ڈانٹ سن رہی ہوتی۔۔۔
ہی ہی ہی۔۔۔ اگر تم نہ ہوتی تو میں لائن سے باہر بھی نہیں آتی۔
۔۔ اور نہ ہی میری ایسے بے عزتی ہوتی.۔۔۔
اچھا نہ بس بھی کرو عدن اتنی بھی عزت نہ دیا کرو مجھے شرم آتی ہے یار۔۔۔
حد ہے۔۔۔۔ اچھا سن تجھے فیس بک کے بارے میں بتاتی ہوں۔۔۔
نہیں بتاؤ مجھے سب پتہ ہے.۔۔۔ حریم نے عدن کی بات کاٹ کر بولا۔۔۔

کیا تم سب جانتی تھی پھر بھی تم نے ایسا کیا میرے ساتھ۔۔۔۔ یار تمہیں پتہ کے میں شاپ پر چلی گئی تھی کل کتنی بے عزتی ہوئی تھی میری۔
۔۔۔
ہاں تو مجھے کیا پتہ تھا تم۔ شاپ پر ہی چلی جاؤ گی یار۔۔۔۔
عدن کو حریم کی اس لاپرواہی پر غصہ آیا اور ناراض ہو کر چلی گئی۔۔۔۔
عدن سن آئی ایم سوری نہ یار۔۔۔

اچھا نہ سن میں تو بتانے والی تھی پر میرے ذہن میں نہیں رہا سچی۔۔۔ عدن کو خاموش اور اُداس بیٹھا دیکھ کر۔۔ حریم کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔

خیر چھوڑ مجھے تو سب ہی بے وقوف سمجھتے ہیں۔
۔۔۔ عدن آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔
ہاں تو اتنی بھی معصوم نہ بن نہ یار۔۔ پلیز تھوڑی تیز بن۔۔۔کل کو اگر میں کہیں چلی گئی تو۔۔۔
نہیں پلیز چھوڑ کر نہ جانا پلیز تم کہیں نہ جانا۔۔۔میرے پاس تم ہو بس پلیز۔۔۔
صرف میں مطلب؟۔

مطلب کے صرف تم ہی میری اچھی دوست ہو نہیں جانا پلیز کبھی بھی نہیں جانا۔۔۔ عدن کی آنکھوں میں آنسوآگئے...
اچھا اچھا اوکے بابا نہیں جاتی۔
۔۔حریم نے عدن کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
پکا وعدہ؟
ہاں پکا وعدہ۔۔۔
                                  ####

اوہ ابھی فیس بک بنائی اب ریکویسٹ بھی آگئی۔۔۔۔۔چلو لڑکی ہی ہے ایکسیپٹ کر لیتی ہوں فرینڈ ریکویسٹ نام بھی اچھا ہے حبیبہ۔۔۔۔عدن نے خوشی سے فرینڈ ریکویسٹ ایکسیپٹ کرلی۔۔۔
ہیلو کیسی ہو حبیبہ۔۔۔۔ عدن نے حبیبہ کو فوراً میسج کردیا۔
۔۔
الحمداللہ میں ٹھیک ہوں آپ سناؤ۔۔۔ فوراً جواب آگیا
میں بھی ٹھیک ٹھاک ہوں الحمداللہ۔۔۔دراصل میں نیو ہوں فیس بوک پر مجھے زیادہ کچھ نہیں آتا۔۔۔اور نہ ہی کوئی دوست ہے میرا یہاں۔عدن نے میسج کیا۔۔۔۔

اوہ اچھا۔۔۔چلو میرا گروپ ہے میں تمہیں وہاں ایڈ کرلیتی ہوں تمہارے دوست بھی بن جائیں گیں۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے شکریہ۔۔
۔۔۔عدن خوش ہوگئی۔۔۔۔

السلام علیکم! یہ ہمارے گروپ کی نیو ممبر ہے اور میری دوست بھی ہے۔۔۔۔فیس بک پر بھی نیو ہے۔۔۔ اس کے زیادہ دوست نہیں سب ویلکم کرو عدن کو۔۔۔ حبیبہ نے پوسٹ کرکے عدن کو ٹیگ کردیا۔۔۔۔
وعلیکم السلام! شکریہ بہت بہت۔۔۔۔
سارے عدن کو ویلکم کہنے میں لگ گئے۔۔۔۔۔
                                        ####
یار حبیبہ یہ فیس بک کتنی عجیب ہے یہاں تو ہر کوئی ثبوت مانگ رہا ہوتا کے تم لڑکی ہی ہو۔
۔۔۔۔ کوئی کہتا وائس بھیجو کوئی کہتا ہمیں یقین نہیں آرہا تم لڑکی ہو اپنی تصویر بھیجو ایسا کیوں۔۔۔۔؟
پاگل فضول لوگ ہوتے ہیں۔۔۔بس لڑکیوں سے دوستی کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہوتے۔۔۔۔ اور تصویریں لے کر بلیک میل کرتے تم اپنی تصویر کسی کو نہ دینا نہ وائس جو ثبوت مانگے سیدھا بلاک کردینا۔۔۔۔
ہاں اوکے۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔ بی بی جی حریم کی کال آئی ہے رو رہی ہے آپ سے بات کرنی ہے۔
۔۔۔عدن موبائل میں مگن تھی کہ سرونٹ نے آکر اطلاع دی۔۔۔۔
حریم کیوں رو رہی ہے یا اللہ یہ لڑکی بھی نہ ضرور اس نے کوئی پنگا لیا ہو گا۔۔۔۔ عدن پریشانی سے لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھ کر بھاگی۔۔۔

ہیلو حریم کیا ہوا کیوں رو رہی ہو سب ٹھیک تو ہے۔۔۔عدن پریشانی سے بولی۔۔۔۔
عدن میری جان اپنا خیال رکھنا آج کے بعد شاید رابطہ نہ ہو ہم یہ شہر چھوڑ کر بہت دور کہیں جا رہے ہیں نمبر بھی سب بند ہوں گے۔

۔۔شاید اب زندگی میں دوبارہ بات نہ ہو۔۔۔۔حریم رو بھی رہی تھی بول بھی رہی تھی۔۔۔
ک ک ک۔۔۔۔کیا کہ رہی ہو یار کیا ہوا ہے؟؟؟؟ سب ٹھیک تو ہے۔۔۔۔دیکھو پلیز سب بتاؤ نہیں تو میں تمہارے گھر آجاتی ہوں۔۔۔۔
ن۔ ن۔۔۔ن۔۔۔نہیں گھر نہ آنا۔۔۔۔
پر کیوں؟؟؟؟؟؟؟

گھر کیوں نہ آؤں؟ بتاؤ تو ہوا کیا ہے دیکھو حریم مجھے فکر ہو رہی ہے۔۔۔۔ پلیز بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔؟؟
عدن کس سے بات کر رہی ہو کون ہے؟۔۔۔اُفف ایک یہ ماما بھی نہ۔۔۔۔۔ ماما حریم کی کال ہے۔۔۔رو رہی ہے پریشان ہے!۔
حریم یار بتا بھی اب ہوا کیا ہے دیکھ اب ماما بھی پوچھ رہی ہیں؟۔۔۔
یار میری ماما کا مرڈر ہوگیا ہے۔۔۔۔!
واٹ۔۔۔۔؟؟؟کیا کیا کہ رہی ہو پر کیسے۔
۔؟
یار وہ جیولری شاپ سے آرہی تھیں کہ راستے میں کچھ لوگ اُن کے پچھے لگ گئے ،انہوں نے ماما سے پرس مانگا، ماما نے نہیں دیا۔انہوں نے ماما کا مرڈر کردیا بہت بے رحمی سے مارا۔۔۔۔گردن الگ کردی سر سے یار ماما۔۔۔۔۔یار وہ لوگ شائد ہمارے پیچھے بھی ہیں ہماری جان کو بھی خطرہ ہے تبھی پاپا پتہ نہیں کہاں لے کر جا رہے ہمیں خود بھی نہیں پتہ۔


۔

۔۔یار عدن پلیز اپنا خیال رکھنا۔۔حریم روئے جا رہی تھی۔حریم کی بات سن کر عدن بھی رو پڑی۔۔
تم بھی اپنا۔ خیال رکھنا۔۔۔اور پریشان نہ ہو اللہ مدد کرے گا جہاں بھی رہو خوش رہو۔۔۔میرا یہی نمبر رہے گا۔۔جب دل کرے کال کر لینا۔۔۔
پتہ نہیں عدن اب کبھی بات ہو گی بھی یا نہیں۔۔۔۔۔
اچھا عدن میں جا رہی ہوں سوچا جانے سے پہلے بتا دوں۔

۔۔اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ

تم بھی اپنا خیال رکھنا اللہ تمہیں صبر دے عدن بھی روتے ہوئے کہنے لگی۔۔اپنی واحد اور پیاری دوست کے دُکھ پہ نہ روتی تو کیا کرتی۔۔۔

کیا ہوا بیٹا کیا کہ رہی تھی حریم۔۔۔۔۔؟ماما اس کی ماما کا مرڈر ہو گیا کسی نے مرڈر کردیا ہے۔۔۔
اوہ میرے خدایا کیسے؟؟؟؟
جیولری شاپ سے آرہی تھیں کہ راستے میں لوگ لگ گئے پیچھے۔
۔
ہائے بیچاری چھوٹی سی بچی حریم۔۔۔۔بیٹا چلو ان کے گھر چلتے ہیں۔۔
نہیں ماما وہ لوگ چھوڑ کر جا رہے ہیں یہ شہر۔۔وہ لوگ ان کے پیچھے بھی لگے ہیں تبھی۔۔۔حریم کو بھی نہیں پتہ وہ لوگ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔
ہائے۔۔۔۔اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے (آمین)
                               ####
حریم کے جانے کے بعد عدن اُداس رہنے لگی تھی۔

۔۔۔اس کے ساتھ وہ کھیلتی تھی شرارتیں کرتی تھی۔۔۔اسکول میں ایسے لگتا تھاجیسے حریم سیڑیوں پہ بیٹھی ہوگی۔۔۔روز عدن حریم کے لئے لنچ لاتی تھی ،حریم عدن کے لئے دونو بریک ٹائم بیٹھ کر لنچ کرتی تھیں۔۔۔
حریم نے۔ دوست بنانا چھوڑ دیئے تھے اسکول میں بس سیڑیوں پر اکیلے بیٹھی رہتی تھی۔۔۔۔ خاموش رہتی تھی۔۔۔۔۔کوئی بات کرتا تو اچھے انداز میں کر لیتی تھی۔

۔۔نہیں تو چپ اور خاموش رہتی تھی.۔۔
                                    ####
السلام علیکم میری بیسٹ فرینڈ کی ماما کی ڈیتھ ہوگئی ہے پلیز ان کی مغفرت کیلئے دعا کریں سب۔۔۔۔۔عدن نے فیلنگ سیڈ کر کے پوسٹ کر دی۔

اللہ پاک اس کو صبر دے.۔۔کسی عارفہ نے کمینٹ کیا۔
آمین ثم آمین۔۔۔مجھے بہت دُکھ ہو رہا ہے میری بیسٹ فرینڈ تھی.۔۔۔پتہ نہیں کیسی ہو گی کس حال میں ہو گی۔
۔۔
یہ تو زندگی کا دستور ہے۔۔۔۔ ہم سب کو ایک دن جانا ہے۔۔۔ اللہ پاک آپ کی دوست کو صبر دے۔۔۔حبیبہ کا بھی کمینٹ آگیا۔
آمین۔۔۔۔ حبیبہ میں سوچ رہی ہوں ایک گروپ بنا لوں۔۔۔۔ عدن نے فوراً حبیبہ سے کہا۔۔۔۔
ارے گروپ کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔

میرا گروپ تمہارا گروپ ایک بات ہے میں ایسا کرتی ہوں تمہیں ایڈمن بنا لیتی ہوں۔۔۔
نہیں نہیں بات یہ ہے کے میں اسلامک گروپ بنانا چاہ رہی۔
۔۔ جس میں سب اسلامک پوسٹ کریں۔۔۔۔
ہاں اچھی بات ہے بنا لو۔۔۔
                                     ####
یار حبیبہ گروپ بن گیا اب سب لوگوں کو ایڈ کر لو میں بھی کر رہی ہوں فرینڈز کو۔۔۔.
اچھا ٹھیک ہے کرتی ہوں۔۔۔
سب فرینڈز ایڈ کرنے میں لگ گئے۔۔۔عدن کا بھی انٹرسٹ بڑھ گیا۔۔۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی دنوں میں 20 ہزار ممبرز ہوگئے۔

۔۔ہر طرف اسلامک پوسٹ کی جا رہی تھی۔۔۔۔عدن کو خوشی ہو رہی تھی۔۔۔۔پر حریم کو یاد کر کے رو پڑھتی تھی۔۔۔ہر وقت ہر فون کال فوراً اٹھاتی کہیں حریم نہ ہو۔۔۔پر مایوس ہو جاتی تھی۔۔۔
                                    #####

یار یہ لڑکا مسلسل میسج کر رہا کہ مجھے آپ سے دوستی کرنی ہے۔۔۔پر میں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی پتہ نہیں کون ہے میں بلاک کرتی ہوں نیو آئی ڈی سے آجاتا ہے۔
۔ عدن نے حبیبہ کو میسج کیا۔۔۔
حبیبہ عدن کی بات سن کر ہنسنے لگی۔۔
نہیں یار مذاق نہ اُڑاؤ کوئی گروپ ممبر ہے پر پتہ نہیں کون ہے۔۔۔۔میں بلاک کرتی ہوں پھر آجاتا ہے مسلسل ہی تنگ کر رہا ہے۔۔۔
اچھا چھوڑو دفع کرو۔۔۔نہ کرو بات۔۔۔۔
نہیں میں نہیں کرتی بات۔۔۔
اور ویسے بھی میری بہنوں کی شادی ہے میں تو بزی ہوں۔۔۔۔
ارے واہ واہ مزے کرو.۔
۔۔۔۔
خاک مزے تمہیں پتہ میرے ایک کزن نے مجھے فیس بک پر فرینڈ ریکویسٹ بھیجی۔۔۔۔میں جانتی نہیں تھی کون ہے دور کا کزن تھا۔۔میں نے دیکھا کے سب رشتے دار ایڈ تھے میں نے پھوپھو سے پوچھا کون ہے۔۔۔۔پھوپھو نے کہا۔۔۔۔بیٹا تمہارے دادا کے بھائی کے بیٹے کی بیٹی کا بیٹا ہے ہاہاہا حد ہے۔۔۔

ہاہاہاہا۔۔۔ توبہ۔۔۔لوگوں کے تلخ اور غلط رویے عدن کے معصوم ذہن پر بری طرح اثر انداز ہونے لگے تھے۔
۔۔حریم کی ماما کا قتل اس کے معصوم ذہن میں کئی سوالات کو جنم دے چکا تھاوقت کی ظالم دھوپ اُسے وقت سے پہلے ہی سمجھدار بنانے لگی تھی۔۔وہ لوگوں کے رویے ان کے انداز پہچاننے لگی تھی۔۔۔تنہائی اُسے اور تو کچھ نہ دے سکی تھی۔۔لیکن تنہائی نے اس پہ ایک مہربانی ضرور کی تھی۔۔۔آگاہی کے دروازوں کی کنجیاں اُسے ضرور تھما گئی تھی۔






Post a Comment

COMMENT POLICY:
We have Zero Tolerance to Spam. Chessy Comments and Comments with 'Links' will be deleted immediately upon our review.