Tuesday, January 07, 2020

Mein Hari Piya Novel By Nayab Jelani Pdf Download

Mein Hari Piya Novel By Nayab Jelani Pdf Download


mein hari piya

The storyteller goes through several stages while creating the story. The storyteller's brain is like a "master" to him. The richness of words, whose crossing of characters, words, and sentences creates a bridge to a story, novel or story.


For every creator, their creativity is very important. However, for me the story does not matter, the reader is important because the storyteller only knows the disposition of the words and the reader captures the vein of the word. Even if the creator's "hard work" reached heaven, he would fall into "the underworld".

Read:

Mein Hari Piya Novel Complete


انتساب!

میرے پیارے بیٹے
سید صائم ثاقب کے نام

پیش لفظ:

کہانی کار کہانی تخلیق کرنے کے دوران کئی مرحلوں سے گزرتا ہے۔ کہانی کار کا دماغ اس کے لیے ”معبر“ کی طرح ہوتا ہے۔ لفظوں کا معبر، جسے عبور کر کے حرف، لفظ اور جملوں کی جوڑ توڑ ایک افسانے، ناول یا داستان کا پل بناتی ہے۔
ہر تخلیق کار کے لیے اپنی تخلیق بنیادی طور پر بہت اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم میرے لیے کہانی اہمیت نہیں رکھتی، قاری اہمیت رکھتا ہے کیونکہ کہانی کار صرف لفظوں کی بازی گری جانتا ہے اور قاری لفظ لفظ کی شہ رگ پکڑتا ہے۔ چاہے تو تخلیق کار کی ”محنت“ کو آسمان پہ پہنچا دے، چاہے تو ”پاتال“ میں گرا دے۔


… کہانی تخلیق کے ”مرحلے“ سے گزر کر ”قاری“ کی نگاہ میں اپنا ”مقدر“ تلاشتی ہے۔

یہ عروج پائے گی یا زوال؟ قاری کی معاملہ فہمی، نظر شناسی، اور نکتہ اسی کی صوابدید پہ ہے۔
کسی بھی کتاب کو کامیاب بنانے کے لیے جتنی کوشش رائٹر کو کرنی پڑتی ہے۔ اتنی ہی کوشش پبلشر کو کرنی پڑتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں میری کتابوں کے حقوق اشاعت حاصل کرنے کے بعد ادارہ علم و عرفان نے اس ذمہ داری کو میری توقعات سے زیادہ بہتر طور پر ادا کیا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قارئین میری اس رائے سے اتفاق کریں گے۔

                     نایاب جیلانی

ائیر پورٹ کی پر شکوہ عمارت بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ گاڑی اب کھلی شفاف سڑک پر رواں دواں تھی۔ سفید نئے ماڈل کی کرولا کا اسٹیرنگ اس کے ہاتھوں میں تھا۔ یہ گاڑی پاپا کے دوست کی بیٹی سویرا نے اس کے آنے سے پہلے ہی خریدی تھی۔ ابھی آدھا گھنٹہ پہلے وہ سویرا کو بھاری بھرکم رقم کا چیک پکڑا کر آئی تھی۔

وہ شروع سے ہی آرام طلب تھی۔ لوکل بسوں اور ٹیکسیوں کے سفر سے اسے شروع سے ہی نفرت تھی بلکہ اسے تو اس جگہ سے بھی نفرت تھی جہاں اس وقت وہ خود اپنی مکمل دلی رضا مندی کے ساتھ جا رہی تھی۔

”بھلا ایسے … ہو سکتا ہے کہ اشفا ہارون کا دل پلٹ جائے۔“ بہت سال پہلے کی یہ بات تو نہیں کہ ”حیات آباد“ کے مکین اس کے حقارت میں کہے گئے ان الفاظ کو بھلا چکے ہوں بلکہ وہ تو یقینا اسے اپنے گھر دیکھ کر اور یہ جان کر کہ اشفا ہارون اب ہمیشہ کیلئے یورپ کے سحر سے آزاد ہو کر ان کے درمیان رہنے کیلئے آ گئی ہے اس کا بھرپور تمسخر اڑائیں گے۔


وہ ان تمام راستوں سے انجان ہونے کے باوجود ایک مرتبہ بھی راستہ نہیں بھولی تھی۔ اونچے نیچے راستوں سے گزرتے ہوئے اس کی بے قرار نگاہیں سبز پینٹ کئے بورڈ سے ٹکرائیں تو دل اک پل کیلئے دھڑکنا بھول گیا۔

”ڈیرہ مرتضیٰ حیدر۔“ وہ کئی لمحے ان افاظ کو زیر لب دہراتی رہی تھی۔ چھ سال پہلے وہ اس شخص سے شدید ترین نفرت کرتی تھی مگر اب چھ سال بعد یہ دل اسی ایک شخص کی محبت سے لبریز تھا۔

”اگر اسے مرتضیٰ حیدر سے ہی محبت ہونا تھی تو یہ محبت چھ سال پہلے کیوں نا اس کے دل میں انگڑائی لے کر جاگی۔“ یہ ایسا سوال تھا جو وہ پچھلے کئی مہینوں سے خود سے کر کرکے تھک چکی تھی۔

اسے یاد تھا پہلی مرتبہ اسی سڑک پر پسینے سے شرابور میلے کپڑوں میں ملبوس مرتضیٰ حیدر سے اس کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت اشفا کے پاپا بھی اس کے ہمراہ تھے۔

پاپا نے ہی مرتضیٰ کو پہچان کر گاڑی رکوائی اور پھر بڑے تپاک سے مرتضیٰ کو گلے سے لگایا۔ مرتضیٰ نے ٹریکٹر کے انجن کو بند کیا اور پھر سفید پگڑی نما چادر جو کہ شاید دھوپ سے بچنے کیلئے سر اور چہرے کو ڈھانپنے کی غرض سے لی تھی سے اپنا بے حد سرخ سفید چہرہ صاف کیا۔

”آپ گھر چلیں چچا جان! میں ابھی آتا ہوں۔“ مرتضیٰ نے بابا کو مخاطب کرتے ہوئے اک بھرپور نگاہ اس پر بھی ڈالی تھی۔
اشفا کا کوفت و جھنجھلاہٹ سے رواں دواں سلگ اٹھا۔ اسے اپنا یہ کزن قطعاً پسند نہیں آیا تھا بلکہ اسے تو حیات آباد میں بسنے والے مکینوں میں سے کوئی ایک بھی قابل توجہ نہیں لگا تھا اور اس وقت وہ ان سب سے ملنے کیلئے بے تاب تھی۔ اس کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں۔ اک نرم گلابی ننھا وجود ، اس کے نقش بھی اس نے غور سے نہیں دیکھے تھے بار بار کھلکھلاتا ہوا نگاہوں کے سامنے آتا وہ بے چین ہو کر گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دیتی۔

”تم کتنی سنگدل ماں ہو۔“ کوئی اس کے کان کے قریب چلایا تو اشفا نے بے ساختہ اپنے سرخ چمکیلے لبوں کو کچل ڈالا۔
”میرا بچہ ، میری جان ، میرا شازم۔“ اس کے دل میں ممتا کے سوتے پھوٹ پڑے تھے۔ اس ممتا ، محبت کو اس نے نفرتوں کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔ ایک مرتبہ نمرہ نے کہا تھا کہ ”اشفا تم بہت خود غرض ہو۔“ اور اشفا نے تو بہت عرصہ پہلے ہی اپنی خود غرضی کو تسلیم کر لیا تھا۔

وہ بہت خود غرض تھی ، مغرور تھی ، خود پسند تھی۔ بے حد ضدی، ہٹ دھرم اور جذباتی تھی۔ ان تمام خوبیوں نے اسے اس مقام پر پہنچا دیا تھا۔ جہاں پچھتاوے ڈسنے لگتے ہیں۔ اس کی سوچوں کو اس وقت بریک لگا جب گاؤں کی حدود اور کچے پکے مکانوں پر نگاہ پڑی۔ حیات محمد کا وہ بہت وسیع و عریض احاطے والا گھر قریب آیا جس کے اندرونی حصے میں بے شمار کمرے اور برآمدے تھے تو اس کا دل نئے سرے سے دھڑک اٹھا۔
یہ بہت بڑا گھر ڈھیروں محبتوں کو سموئے بانہیں پھیلا کے کھڑا تھا مگر چھ سال پہلے وہ اس گھر کو ٹھوکر مار کر اور ان
 محبتوں سے منہ موڑ کر خود چلی گئی تھی اور آج وہ پھر اسی دروازے پر کھڑی گومگو کی کیفیت میں مبتلا تھی۔

لکڑی کا بڑا سا دروازہ بند تھا اور اشفا کے ہاتھ دستک کیلئے اٹھ نہیں رہے تھے۔ نہ جانے کتنا وقت گزر گیا ،وہ یونہی چلچلاتی دھوپ میں ہر شے سے بے نیاز کھڑی رہی اور پھر تمام ہمتوں کو جمع کرکے اس نے دروازے کو دھکیلا تو وہ خود بخود ہی کھلتا چلا گیا۔

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے چل رہی تھی۔ اندرونی دروازے کے قریب اس کے قدم ایک دفعہ پھر زنجیر پا ہو گئے۔
”کیا یہ لوگ مجھے قبول کریں گے۔ تمام تر نافرمانیوں ، من مانیوں اور بدتمیزیوں کے باوجود مجھے ایک دفعہ پھر سینے سے لگا لیں گے، کیا اس گھر کی طرح ان کے ظرف بھی وسیع ہیں۔“ یہ وہ سوال تھے جن کے جواب کم از کم اسے اس وقت بھی نہیں مل رہے تھے جب وہ امریکہ میں ان لوگوں کی یاد اور شازم سے ملنے کیلئے تڑپ رہی تھی۔

ان چار مہینوں کے اندر اندر وہ یعنی اشفا ہارون سر تاپا بدل گئی تھی۔
اس کا دل کیا بدلا ، سوچ اور نظریات تک بدل گئے۔ اتنے برسوں سے وہ جس ماحول کا حصہ رہی تھی ایک دم ہی وہ ماحول اجنبی اور پرایا پرایا لگنے لگا تھا اور اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے آشیانے کی طرف اڑ کر پہنچ جائے مگر بہت سی مجبوریوں کی وجہ سے اسے کچھ عرصہ مزید وہاں رکنا پڑا تھا۔

پاپا کا اتنی محنت ، جدوجہد اور انتھک کوششوں سے بنایا گیا وہ مختصر سا ہوٹل بیچ کر اور اپنے بے حد پیارے گھر کو فروخت کرکے وہ اندر سے ٹوٹ گئی تھی۔ اس گھر میں اس کی بے حد سیدھی اور معصوم سی ماما کی ڈھیروں یادیں تھیں۔ اس کا بچپن اور لڑکپن تھا مگر وہ محض یادوں کے سہارے جینا نہیں چاہتی تھی۔ حقیقی خوشیوں کو پانے کیلئے ہی تو وہ پلٹ آئی تھی ، لوٹ آئی تھی مگر نہ جانے یہ مسرتیں اسے میسر آتی تھیں بھی کہ نہیں۔

سفر کی تھکان اب آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔ وہ دودھیا گداز مخروطی انگلیوں والے ہاتھوں سے آنکھیں دباتے ہوئے دروازے کا ہینڈل گھمانا چاہ رہی تھی جب ایک دم ہی اندر سے کسی نے دروازہ کھول دیا تھا اور یہ کوئی اور نہیں مہوش تھی۔ جو کہ نہ جانے کتنے ہی رنگ آنکھوں میں لئے یک ٹک اشفا کو دیکھے جا رہی تھی۔

اشفا نے جھجک کر مہوش کے چہرے کی طرف دیکھا۔

مہوش کے چہرے سے سرخی چھلکنے لگی تھی جبکہ آنکھوں میں نفرتوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔
حیرت ،بے یقینی اور اس کے بعد بے تحاشا ناگواری و نفرت کے اس استقبال نے اشفا کی رہی سہی ہمت کو بھی نچوڑ دیا تھا۔
”کیا لینے آئی ہو یہاں۔“ مہوش نے زہریلے لہجے میں کہا۔

”مم…میں تم سب سے ملنے ،میرا مطلب ہے کہ شازم۔“ اشفا! اس کے سخت الفاظ پر ہکلا کر خاموش ہو گئی تھی۔
اس کا ازلی اعتماد ایک دم اڑنچھو ہو گیا تھا۔ اُسکی تمام تر بہادری اور بے خوفی اس وقت صرف ایک ہی ”خوف“ کے زیر اثر تھی کہ یہ لوگ مجھے دھتکار نہ دیں۔ ٹھکرا نہ دیں ، کیونکہ شفا ہارون اب کے تمام کشتیاں جلا کر آئی تھی۔

”دفع ہو جاؤ یہاں سے اپنا غلیظ وجود لے کر۔ نفرت ہے مجھے تم سے، اگر غیرت ہوتی تم میں تو کبھی لوٹ کر نہ آتیں مگر تم جیسی عیاش امیر زادیاں بے غیرتی میں ڈگری لئے پھرتی ہیں۔

“ مہوش نے دبی آواز میں چیخ کر کہا اور پھر غراتے ہوئے اشفا کو دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑا کر کچھ قدم پیچھے ہٹ گئی تھی۔”نکل جاؤ اس گھر سے ، تمہاری اب یہاں جگہ بالکل نہیں ہے۔“مہوش دو سیڑھیاں مزید نیچے اُتر کر غرائی اور پھر اس کا گداز ملائم بازو اپنے شکنجے میں جکڑ کر ایک دفعہ پھر جھٹکا دے کر بولی۔

”اس گھر میں سب تم سے نفرت کرتے ہیں۔ مر چکی ہو تم سب کیلئے، مرتضیٰ تمہاری شکل پر تھوکے گا بھی نہیں۔
کس آس ، کس امید پر آئی ہو۔ نکلتی ہو یا لگاؤں دو ہاتھ۔“ مہوش تو بپھڑی شیرنی کی طرح گویا اس پر جھپٹنے کیلئے تیار بیٹھی تھی۔ اتنی توہین ،اس قدر بے عزتی۔ اشفا کے سفید گال تپ اٹھے ،آنکھیں گلابی سے سرخی مائل ہو گئیں۔
”مم ، مجھے شازم سے ملنے دو۔“ اس نے لڑکھڑائی آواز میں کہا تو مہوش ایک مرتبہ پھر چنگھاڑی۔
”کون شازم! کوئی تعلق نہیں تمہارا شازم کے ساتھ ، اب دفع ہو جا۔
ورنہ بالوں سے گھسیٹ کر باہر پھینک آؤں گی۔جا چلی بھی جا۔“ مہوش کو یہ بھی خوف تھا کہ اندر سے دادی یا تائی میں سے کوئی اٹھ کر نہ آ جائے۔ کسی کے بھی آنے سے پہلے وہ اس عذاب کو نکال دینا چاہتی تھی۔

”میں چلی جاتی ہوں ، مگر مجھے میرے بچے سے ملنے دو۔ میں ایک مرتبہ اسے دیکھنا چاہتی ہوں۔“ آنکھوں سے بہتے آنسو ، لبوں پر التجا مگر سامنے کھڑی عورت نہ دیکھ رہی تھی نہ سن رہی تھی۔
وہ بس جلد از جلد اسے گھر سے نکال دینا چاہتی تھی مگر کیوں؟

اشفا کے حواس ٹھکانے ہوتے یا پھر وہ پہلے والی حد درجہ حاضر جواب ،منہ پھٹ اور بااعتماد اشفا ہوتی تو ایک مرتبہ ضرور مہوش سے سوال کرتی کہ میرا اس گھر کے مکینوں سے کچھ اور بھی رشتہ ہے اور میں بھی اس گھر میں تمہاری طرح برابر کے حصے دار ہوں مگر اس کے لبوں پر تو قفل لگ چکے تھے۔

اس کی خاموشی التجاؤں کا مہوش پر قطعاً کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ اشفا نے تھکی تھکی نگاہ اس کے پتھریلے تاثرات والے چہرے پر ڈالی اور پھر لرزیدہ قدموں سے پلٹنے لگی۔ اسی پل بیرونی دروازے کھلا تایا ابا اپنی ہی دھن میں اندر آئے اور پھر ٹھٹک کر رک گئے۔

سامنے آنسوؤں سے تر چہرے لئے اشفا کھڑی تھی۔ان کی بھتیجی اشفا، ان کے پیارے بھائی کی اکلوتی بیٹی اور ان کی بہو تھی۔

ان کے لرزیدہ وجود میں حرکت ہوئی اور پھر انہوں نے آگے بڑھ کر اشفا کو سینے سے لگا لیا۔ وہ بھی تایا ابا کے مہربان سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

”اشفا! تم نے آنے میں کیوں اتنی دیر کر دی؟“ ان کے کانپتے ہاتھ اس کا سر تھپتھپا رہے تھے۔

”کیوں چلی گئی تھیں تم بغیر بتائے۔ تمہیں ہماری محبتیں بھی نہ روک سکیں ،شازم کے وجود نے بھی تمہارے قدموں کو زنجیر نہ کیا اور مرتضیٰ…“تایا ابا کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی تھی۔

اس کا سر اور ماتھا چومتے ہوئے وہ بہت رنجیدہ تھے۔

”اور مرتضیٰ۔“ اشفا نے کچھ خوفزدہ سے انداز میں ان کے سینے سے سر اٹھایا۔
”مرتضیٰ تمہارے منہ پر تھوکے گا بھی نہیں۔“

مہوش سامنے کھڑی تمسخرانہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو کہ تایا ابا کے بازو کے حلقے میں لڑکھڑاتے ہوئے بمشکل اپنے وجود کو گھسیٹ رہی تھی۔

”لکی! ایک بیڈ نیوز سنو۔“ وہ پھولی سانسوں سمیت تقریباً بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے آئی تھی۔ لکی جو کہ اپنے ہی دھیان میں مگن سیٹی پر کوئی دھن گنگناتے ہوئے موسم انجوائے کر رہا تھا ایک دم ہی ٹھٹک کر رکا۔

”بیڈ نیوز…“ لکی نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے ہونٹ سکیڑے اور پھر بولا۔
”بیڈ نیوز نہیں ، گڈ نیوز بولو۔ آنٹی ڈیزی کی ڈیتھ میرے لئے ایک اچھی خبر ہے جسے میں بار بار سننا چاہوں گا۔
“ لکی نے لاپرواہی سے اپنی اکلوتی خالہ کے متعلق کمنٹس پاس کئے ، جنہیں مرے ہوئے ابھی آٹھ گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے۔

”بہت کمینے ہو تم لکی۔“ اشفا نے دانت پیسے۔
”وہ تومیں ہوں ہی ، تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ مجھے اپنی خوبیوں کے بارے میں پتا ہے۔“ وہ ہنوز لاپرواہی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا تو اشفا جھنجھلا سی گئی۔


”میں تمہیں کچھ اور بتانا چاہتی ہوں۔
”یہی ناکہ آنٹی ڈیزی کی تمام پراپرٹی اب میری ہے۔ وہ مرنے سے پہلے تمام جائیداد میرے نام کر گئی ہیں۔“
”نہیں… آنٹی نے پراپرٹی تمہارے حوالے کر دی ، امپاسبل۔“ اشفا کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ آنٹی اپنے اس بھانجے سے کتنی نفرت کرتی ہیں۔

”ہاں ، بس آنٹی نے جاتے جاتے مجھے بھی حیران کر دیا ہے۔“ لکی مسکرایا اور پھر مزید بولا۔
”کون سی بیڈ نیوز بتانا چاہ رہی ہو۔“
”او… ہاں دراصل پاپا اور ماما پاکستان جا رہے ہیں۔“ 
“یہ تو اچھی بات ہے۔“

”کیا اچھی بات ہے ،ماما مجھے بھی اپنے ساتھ گھسیٹ رہی ہیں۔“اشفا کو اب اس کے انداز پر غصہ آنے لگا تھا۔
”تم بھی چلی جاؤ ان کے ساتھ پاکستان ، گھوم پھر آؤ۔ میں بھی کچھ عرصے تک ورلڈ ٹور پر نکل جاؤں گا۔
آخر نیا نیا امیر ہوا ہوں ، سیر و تفریح میرا حق ہے۔“ اشفا نے اب کچھ حیرانی سے لکی کی طرف دیکھا تھا ، جس کے تیور واقعی بدلے بدلے سے لگ رہے تھے۔ نئی نئی دولت کا خمار تھا۔

”میری خواہش تو تھی کہ تم بھی میرے ساتھ جاتیں مگر خیر ، میں تمہارا پروگرام کیوں خراب کروں۔ تمہاری ماما تو ویسے بھی مجھے پسند نہیں کرتیں۔“ اشفا جان گئی تھی کہ اب وہ صرف دامن بچانے کیلئے بہانے کر رہا ہے۔

جب اسے جاب کی ضرورت تھی تب وہ پاپا کے ہوٹل میں ڈش واشنگ کیلئے بھی تیار تھا اور یہ اشفا ہی تھی جس نے پاپا کو بمشکل منا کر اسے قدرے بہتر جاب دلائی۔ اشفا کو ایک دم ہی اس سے گھن محسوس ہوئی تھی۔

”تھرڈ کلاس پاکستانی۔“ اشفا نے زیر لب بڑبڑا کر کہا۔ آنٹی ڈیزی کی مہربانی سے لکی کو گرین کارڈ تو مل ہی چکا تھا۔ اب وہ کسی نیشنلٹی ہولڈر… لڑکی کی تلاش میں تھا تاکہ تمام پیپرز کلیئر کروا سکے۔

اشفا اس لحاظ سے اسے کافی پسند آئی تھی کیونکہ ناصرف وہ بے حد حسین تھی بلکہ بہت دولت مند بھی تھی مگر مسئلہ اس کے ماں باپ کا تھا جو کہ اس پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔
”بائے اشفا ، مجھے ایک ضروری کام یاد آ گیا ہے۔ پھر ملیں گے۔“ سامنے سے آتی ٹیکسی کو روک کر وہ جھپاک سے اس میں بیٹھا اور یہ جا وہ جا۔

”اب ہم کبھی نہیں ملیں گے۔“اشفا نے تنفر سے کہا اور سر جھٹکتی اپنے گھر کی طرف آ گئی۔
داخلی دروازے پر ماماکوڑے کی باسکٹ لئے کھڑی تھیں۔ اسے آتا دیکھ کر لجاجت سے بولیں۔
”ٹینا آج آئی نہیں اور میں سیڑھیاں اتر نہیں سکتی۔ یہ باسکٹ کا کوڑا ڈرم میں الٹ آؤ۔“ اشفا نے بغیر بحث کئے باسکٹ پکڑ لی۔ ڈرم کے قریب آکر اس نے ڈھکن اٹھایا اور گویا لکی کی نام نہاد دوستی کو بھی اسی ڈرم میں دفنا کر چلی آئی۔
اس نے لکی پر بہت احسانات کئے تھے۔

جب اس کی آنٹی نے لکی کو گھر سے نکال دیا تب وہ اس مجبور بے کس پاکستانی کو گھر لے آئی۔ پاپا کی منت سماجت کرکے جاب دلوائی۔ تین چار ماہ تک اس کے تمام اخراجات اس نے اپنے ذمے لے لئے۔ اسے لکی پر ترس آ گیا تھا۔ جب وہ اسی کوڑے کے ڈرم کے پاس رکھے سرخ بینچ پر لیٹا با آواز بلند اپنی قسمت کو روتے ہوئے کوس رہا تھا۔
لکی نے اپنی مجبوریوں کی ایسی داستان سنائی کہ اشفا کا دل پسیج گیا۔

وہ لکی میں انٹرسٹڈ نہیں تھی۔ وہ تو صرف اس سے ہمدردی کر رہی تھی مگر ماما نہ جانے کیا سمجھیں۔ انہوں نے لکی کو گھر سے نکال دیا تھا۔ انہیں یہ خوف تھا کہ ان کی سر پھری بیٹی کہیں اس نکمے لڑکے سے شادی کرنے کا فیصلہ نہ کرے۔ مگر جب اشفا کو ماما کے اس فعل کے متعلق پتا چلا تو محض ماما کی ضد میں اس نے لکی کے ساتھ رابطہ ختم نہیں کیا تھا۔ نہ جانے کیوں اسے ماما کی روک ٹوک سے الجھن ہوتی تھی۔

وہ جس کام سے اسے منع کرتیں ، دانستہ یا نادانستہ اشفا سے وہ ہ غلطی سے سر زد ہو جاتی تھی۔

اس کی ماما بے حد بھولی بھالی سیدھی سی گھریلو خاتون تھیں مگر تھیں تو اس کی ماں۔ ہر وقت اس پر نظر ہوتی تھی ان کی ، اشفا کہاں جا رہی ہے۔ کہاں سے آ رہی ہے۔ یونیورسٹی میں کون کون سے فرینڈ ہیں۔ انہیں مکمل خبر ہوتی۔

ونیورسٹی میں اشفا کا کوئی دوست نہیں یہ خبر ان کیلئے باعث اطمینان تھی۔ اشفا کا مزاج ایسا تھا کہ کوئی خود سے اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا تھا۔ مگر نہ جانے کب اس لکی منحوس پر اس کی نظر پڑی تھی اور وہ اس پر ترس کھا کر اسے گھر لے آئی۔ ماما نے جب اسے گھر سے نکالا تو وہ لکی کی وجہ سے ماما سے لڑ پڑی۔ ان کے سمجھانے بجھانے کا الٹا اثر ہوا اور اس نے لکی کو ہوٹل میں جاب دلوا دی۔

اپنی گاڑی بھی اسے استعمال کیلئے دے دیتی تھی۔
وہ کوڑے کی خالی باسکٹ دروازے کے پاس رکھ کر اندر جانے کی بجائے جلتی بھنتی اپنی دوست مرینہ کے گھر چلی آئی۔
”بہت دنوں بعد شکل دکھائی ہے۔“ مرینہ نے دروازہ کھول کر مسکراتے ہوئے کہا جواباً جو مسکرا بھی نہیں سکی تھی۔
”کافی غصے میں لگ رہی ہو؟“ اشفا کو ہونٹ چباتے اور سرخ چہرہ لئے دیکھ کر مرینہ نے کہا تو وہ ایک دم پھٹ پڑی۔


”تم ٹھیک کہتی تھیں مرینہ! یہ سب پاکستانی لالچی اور خود غرض ہوتے ہیں۔“
”ہوا کیا ہے؟“ مرینہ پریشانی سے بولی۔

”وہ لکی کمینہ اوقات دکھا گیا ہے۔“ اشفا اسی غصے کے عالم میں پھینکاری۔ ”میں تو اس کے بدلے تیور دیکھ کر شاک میں تھی۔ اتنا خیال ہی نہیں آیا کہ اپنی وہ رقم جو میں نے بطور قرض اسے دی تھی وہی مانگ لیتی۔ وہ رقم معمولی نہیں تھی کہ میں اسے بخش دیتی۔
”تو اب مانگ لو۔“ مرینہ نے نرمی سے کہا۔
”وہ تو دفعان ہو گیا ہے۔“ اشفا نے دانت پیسے۔
”کہاں…“ مرینہ بھی چونک اٹھی تھی۔

”نہ جانے کہاں ، مجھے ایک بات کا تو پکا یقین ہے کہ آنٹی ڈیزی نے اپنی پراپرٹی دلی خوشی سے ہرگز لکی کو نہیں دی ہو گی۔ اس چالباز نے یقینا بڑی چالاکی سے آنٹی سے پیپرز پر سائن کروائے ہوں گے۔“
”اس بات کا امکان ہے۔
“ مرینہ نے بھی تائید میں سر ہلایا۔

”بہت ہی کمینہ اور ذلیل نکلا ہے احسان فراموش بالکل یاسر کی طرح۔“ اشفا کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔ مرینہ کے چہرے پر اک سایہ سا لہرایا۔

”تم نے بھی تو اس خبیث پر احسان کیا ، اسے امریکہ بلوایا ، شادی کی اور پھر وہ بھی اپنی اوقات دکھا گیا۔“
مرینہ کا چہرہ زردی مائل ہو گیا تھا۔

اسے بہت سال پہلے کے کچھ منظر یاد آنے لگے تھے۔ جب وہ اپنی ماں کے ہمراہ لاہور اپنی پھوپھی کے پاس گئی تھی۔
وہ خوب صورت نہیں تھی۔ اس بات کا اسے خود بھی علم تھا۔ وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی مگر پھوپھی اور ان کی فیملی نے تو ایسے اس کا استقبال کیا گویا وہ کسی ریاست کی شہزادی ہے۔ ان کی بیٹیاں اس کی تعریفیں کر کرکے نہیں تھکتی تھیں اور خود یاسر ، اس نے تو گویا مبالغہ آمیزی کی حد کر دی تھی اور نہ جانے کیوں مرینہ سب کچھ جانتے بوجھتے اس کی باتوں کے سحر میں جکڑی گئی۔

اس حقیقت کا تو اسے بہت بعد میں ادراک ہوا تھا کہ یہ شادی صرف اور صرف یاسر نے اپنا مستقبل بنانے کی خاطر کی تھی۔ جب اس نے اپنے قدم جما لئے تو بہت سے اپنے ہی ہم مزاج مادہ پرست اور سطحی ذہنیت کے پاکستانیوں کی طرح وہ بھی مرینہ کو چھوڑ کر اپنی الگ دنیا بسانے دوسرے شہر چلا گیا تھا۔

”سوری مرینہ! میں نے تمہیں دکھی کر دیا“ اپنی جھونک میں بولتی اشفا کو ایک دم احساس ہوا کہ وہ بہت غلط بول رہی ہے۔
”کوئی بات نہیں۔“ مرینہ رنجیدگی سے مسکرائی۔

”جی تو چاہ رہا ہے کہ اس لکی کمینے کو شوٹ کر دوں۔“ ایک مرتبہ پھر اس کا پارہ ہائی ہو گیا تھا۔
”یوں کرو ، پولیس کو انفارم کر دو۔

”مجھے ایسا ہی کرنا چاہئے تھا مگر…“ اشفا نے سوچتے ہوئے سر ہلایا۔
”مگر کیا…“

”پاپا سے ڈر لگتا ہے۔“ وہ جتنی بھی غصیلی ، نک چڑھی اور ضدی تھی مگر ماں باپ کے سامنے اس کی بولتی بند ہو جاتی تھی۔
خصوصاً پاپا سے اسے بہت خوف آتا تھا۔
”ایک بات پوچھوں اشفا! غصہ تو نہیں کرو گی۔“
مرینہ نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
”نہیں تو ، بولو کیا پوچھنا ہے۔“
”کیا تم لکی میں انٹرسٹڈ ہو۔“

”اوف… تم نے یہ سوچا بھی کیسے۔ میں تو صرف اس سے ہمدردی کر رہی تھی مگر ماما سمیت نہ جانے سب کیا سمجھے۔“ اشفا نے اپنا سر پیٹ لیا تھا۔ مرینہ کو پشیمانی ہوئی۔

”آئم سوری…“

”اٹس اوکے…“ وہ ہولے سے مسکرائی اور پھر دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے اپنے گھر کی طرف چل دی۔

رات بھر مسلسل برف باری ہوتی رہی تھی۔ اس موسم کے نیویارک میں بسنے والے پاکستانی امریکن شہری اب عادی ہو چکے تھے۔

اشفا کسلمندی سے کمبل ہٹا کر اٹھی اور پھر گلاس ونڈو سے بھاری کرٹن ہٹا کر نیچے رواں دواں زندگی کا جائزہ لینے لگی۔ اسی پل اس کی نگاہ آنٹی ڈیزی کے مکان کی طرف اٹھی تھی۔ گیٹ کے پاس پولیس کھڑی تھی۔ اشفا کو حیرت کا جھٹکا لگا اور پھر اس کے ذہن میں سے کچھ روشن ہوا۔
وہ پولیس کو مایوس پلٹتا دیکھ کر تاسف سے سر ہلانے لگی تھی۔
”گھاگ شکاری بھاگ گیا ہے۔“

”مگر پولیس کے شکنجے سے تم بھی نہیں بچو گے۔ اسے اپنے ملک کی پولیس مت سمجھنا۔“ وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے واش روم میں گھس گئی۔ فریش ہو کر باہر آئی تو ماما اور پاپا اسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔


وہ بھی جلدی اٹھنے کا نئے سرے سے عہد کرکے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔

”کیا لو گی اشفا۔“ ماما نے کافی کا مگ پاپا کی طرف بڑھاتے ہوئے جمائیاں لیتی اشفا سے پوچھا۔
”کچھ بھی نہیں۔“ اس نے سستی سے کہا۔

”کیا مطلب ، یہ بوائل ایگ اور دودھ کا گلاس پیو۔“ ماما نے کرسٹل کی ٹرے میں مختصر ناشتہ اس کے سامنے رکھا۔
”جب کرنی ہمیشہ اپنی مرضی ہوتی ہے تو پھر پوچھتی کیوں ہیں؟“ اشفا نے بے دلی سے دودھ کا گلاس اٹھا لیا۔
ماما اب پاپا سے باتوں میں مصروف ہو گئی تھیں۔اشفا کو جواب دینا انہوں نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔
”سیٹیں کب کنفرم ہوں گی۔“ ماما کے لہجے میں بے تابی تھی۔ اشفا چونک اٹھی۔

”تیاری تو مکمل ہے بس ایک دو ضروری کام نبٹا لوں انشاء اللہ پندرہ بیس دن بعد ہم پاکستان میں ہوں گے۔
”میں نے بھی کچھ شاپنگ تو کر لی ہے اور باقی اشفا کو ساتھ لے جاؤں گی اور عروبہ ، مہوش کیلئے یہ اپنی پسند سے شاپنگ کر لے گی۔

نمرہ اور ثانیہ نے تو اپنی اپنی پسند بتا دی ہے مجھے۔نجمہ کی بچیوں کیلئے بھی کپڑے خرید لئے ہیں۔“ماما بڑے جوش کے عالم میں پاپا کو تفصیلات فراہم کر رہی تھیں۔پاپا بھی بہت دلچسپی سے سن رہے تھے۔ اشفا کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔
”اپنے گھر ، اپنے وطن کی بات ہی کچھ اور ہے۔“

”اونہہ…“ اشفا دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے اٹھی اور صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی آن کر لیا۔
”آپ نے بھائی جان سے بات کی۔“ماما کا لب و لہجہ حد سے زیادہ دھیما ہو چکا تھا۔ اشفا نے لاپرواہی سے ٹی وی پر نگاہیں جما دیں۔

”ہوں۔“ پاپا نے آہستگی سے ہکارا بھرا اور بولے۔
”وہ سب تو ہمارے آنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ بھابھی نے تو ابھی سے تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ بس جاتے ہی چھوٹی سی رسم کے بعد نکاح کر دیں گے۔“ انہوں نے تمام تفصیلات سے بیوی کو آگاہ کیا تو وہ ایک دم ہی مطمئن اور سرشار ہو گئیں۔

اکلوتی بیٹی کے مستقبل کے حوالے سے وہ حد پریشان تھیں۔
پاپا کے جانے کے بعد وہ کچن سمیٹ کر اشفا کے پاس آ بیٹھی تھیں۔ اشفا نے چونک کر ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔
”تم بھی آہستہ آہستہ اپنی پیکنگ مکمل کر لو۔“
”کیوں؟“
”ہم عنقریب پاکستان جانے والے ہیں۔“ عطیہ بیگم نے نرمی سے جواب دیا۔
”صرف آپ اور پاپا ،میں نہیں جاؤں گی۔
”تم یہاں اکیلی رہو گی۔ تمہارے پاپا ہرگز نہیں مانیں گے۔“ انہوں نے اپنے ازلی نرم لہجے میں کہا تو وہ تنک اٹھی۔
”آخر پہلے بھی تو پاپا پاکستان اکیلے جاتے رہے ہیں۔“

”مجھے سولہ سال ہو گئے ہیں اپنے گھر اور اپنے لوگوں سے ملے ہوئے۔ تمہاری وجہ سے ہمیشہ میں اپنے دل کو مار لیتی تھی۔ پہلے اسکول ، کالج پھر یونیورسٹی ، تمہاری پڑھائی کا حرج نہ ہو جائے یہی سوچ مجھے روک دیتی ، مگر اب کوئی رکاوٹ نہیں اور تمہیں بھی دادی سے ملے اتنے ہی سال ہو گئے ہیں۔

تم سے ملنے کیلئے بہت بے تاب ہیں۔ خوامخواہ بدمزگی نہ پھیلاؤ ہونا وہی ہے جو تمہارے پاپا چاہتے ہیں۔ اچھی بیٹیوں کی طرح اپنی تیاری مکمل کرو اور فرمانبرداری سے والدین کی بات مانتی جاؤ۔ ماں باپ بچوں کیلئے کبھی بھی غلط فیصلہ نہیں کرتے۔“ وہ چند لفظوں میں نہ جانے کون کون سے مفہوم واضح کرکے اٹھ گئی تھیں جبکہ اشفا غصے سے تنتناتی رہ گئی۔
اتوار کے روز وہ ماما کی بنائی لسٹ کے مطابق شاپنگ کرکے آئی تو ماما کو فون پر مصروف پایا۔

یقینا پاکستان سے فون آیا تھا اور اب کم از کم ڈیڑھ دو گھنٹے مسلسل باتیں ہونا تھیں۔ ماما عادتاً تمام خاندان کی خیریت تفصیلاً دریافت کرتی تھیں اور جتنے تفصیل کے ساتھ ماما کے سوال ہوتے تھے اسی حساب سے مکمل معلومات دینے والے بھی بھرپور فرصت سے چیدہ چیدہ واقعات ماما کے گوش گزار کرتے۔

جوں ہی ان کی نگاہ اشفا پر پڑی تو انہوں نے دوسری طرف شخصیت کو ہولڈ کرنے کا کہہ کر اسے آواز دے کر بلایا۔
مرتا کیا نہ کرتا وہ مرے مرے قدم اٹھاتی ماما کے برابر رکھے صوفے پر ڈھے گئی تھی۔

”دادی سے بات کرلو۔“انہوں نے زبردستی اس کے کان سے ریسیو لگایا۔ دوسری طرف دادی کی محبت سے لبریز آواز سماعتوں سے ٹکرائی تو اس نے اک طویل سانس خارج کرکے ان کے متوقع سوالوں کیلئے خود کو تیار کر لیا۔
”میری بچی کیسی ہے؟“
”ٹھیک ہوں۔“ وہ لب و لہجے کی بے زاری چھپا نہیں پائی تھی۔

”میں تو ہر گھڑی تم لوگوں کی آمد کا انتظا کر رہی ہوں۔ برسوں بیت گئے تمہاری اور عطیہ کی صورت دیکھے ہوئے۔ ہارون تو تقریباً ہر سال ہی آتا ہے مگر تم…“ ہر دفعہ فون پر ان سے اسی قسم کی باتیں ہوتی تھیں۔ اشفا کی بے زاری دو چند ہو گئی۔
”میں نے تمہارے لئے بہت شاندار کپڑے بنوائے ہیں۔ ایک ایک جوڑا بہت قیمتی اور نفیس ہے اور زیورات بھی بہت خوبصورت ہیں۔

“ اشفا غائب دماغی سے جی جی کر رہی تھی۔ ماما نے غصے سے بھناتے ہوئے اس کے ہاتھ سے ریسیو پکڑ لیا۔ اشفا جان چھوٹنے پر شکر ادا کرتی اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی۔

اسی شام ہسپتال سے فون آیا کہ مرینہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ اشفا پریشانی کے عالم میں ماما کو مختصر بتا کر ہسپتال چلی آئی۔

اگرچہ مرینہ کو چوٹیں اتنی شدید نہیں آئی تھیں مگر وہ ذہنی طور پر بے حد نڈھال تھی۔
تنہائی کے احساس نے اس بتیس سالہ عورت کو اندر سے توڑ دیا تھا۔ اشفا کی مسلسل دل جوئی اور تیمار داری نے اگرچہ اسے کافی سنبھالا دیا تھا مگر پھر بھی اک کمی تھی جو کہ دل و روح کو مسلسل چاٹ رہی تھی۔

اشفا نے ایک دن مرینہ سے چوری ڈائری میں سے یاسر کا نمبر لے کر اسے فون کر ڈالا۔ فون اسی نے ریسیو کیا تھا۔ یہ نمبر اس کی فیکٹری کا تھا جہاں وہ ملازمت کرتا تھا۔

اشفا نے مرینہ کا ایکسیڈنٹ اور اس کی ذہنی حالت کے متعلق اتنے دلسوز انداز میں بتایا تھا مگر پھر بھی اس سنگدل انسان پر قطعاً اثر نہ ہوا۔ پہلے پہل وہ نرمی سے بات کرتی رہی تھی مگر یاسر کی بد زبانی جب بڑھی تو اس کا بھی پارہ چڑھ گیا۔
”وہ تمہاری بیوی ہے اور اسے اس وقت تمہاری ضرورت ہے۔“
”وہ میری بیوی اب نہیں ہے۔ شاید اس نے تمہیں نہیں بتایا میں اسے طلاق دے چکا ہوں۔
دوسری طرف یاسر نے قدرے تحمل سے کہا تو اشفا چلا اٹھی۔
”جھوٹ مت بولو ، اپنی ذمے داریوں سے جان چھڑوانے کیلئے بہانے مت بناؤ بے غیرت انسان۔“
”میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ میرا اس کے ساتھ اب کوئی تعلق نہیں۔“ یاسر نے بھی ناگواری سے کہا۔
”وہ تمہاری کزن تو ہے۔ اس رشتے سے تو انکار نہیں کرو گے۔“
”اونہہ کزن۔“ یاسر تنفر سے بولا۔

”بہت کمینے انسان ہو تم۔ پہلے اسی رشتے کا سہارا لے کر تم نے فراڈ کے ساتھ مرینہ سے شادی کی۔ گرین کارڈ اور امریکہ کی روشنیوں نے تمہیں اندھا کر دیا ہے۔ میری دعا ہے کہ تمہاری بینائی کبھی واپس نہ آئے اور تم اسی طرح اندھیروں میں رہو۔“ اشفا نے دو چار موٹی گالیاں دے کر فون رکھ دیا تھا۔






Post a Comment

COMMENT POLICY:
We have Zero Tolerance to Spam. Chessy Comments and Comments with 'Links' will be deleted immediately upon our review.