Thursday, January 09, 2020

Sehar Hone Tak Novel By Sarah Rehman Pdf Download

Sehar Hone Tak Novel By Sarah Rehman Pdf Download


sehar hone tak


Sehar Hone Tak Novel describes that Ma'ad came running and entered his room. Nilah smiled at him and indicated that he was sitting down and walked towards his room. 13-year-old Maad was lying blind on the bed. What a joke it is when you start doing such things. Beta she is younger than you. There is no age around for this to come to play with you.

Read:


Sehar Hone Tak Novel Complete



معاذ بھاگتا ہوا آیا اور اپنے کمرے میں گھس گیا۔۔نائلہ اس کی اس حرکت پر مسکرائی زینی نے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود معاذ کے کمرے کی طرف چل دی۔۔

13 سالہ معاذ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا تھا۔یہ کیا حرکت ہوئی معاذ جب بھی زینی آتی ہے تم ایسی حرکتیں کرنے لگ جاتے ہو۔۔بیٹا وہ چھوٹی ہے آپ سے۔ آس پاس کوئی ہم عمر نہیں اس لیئے آپ کے ساتھ کھیلنے آ جاتی ہے۔

۔اور تم ہو کہ لفٹ کرانا تو دور کی بات مجھ سے بھی بات کرے تو آپ کو برا لگتا ہے۔۔۔کیوں کرتے ہیں آپ ایسا۔۔؟ماں اُسے دیکھتے ہی مجھے بابا یاد آجاتے ہیں۔۔۔کیسے انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیئے اپنی جان دے دی۔۔میں تو بابا کو آخری ٹائم مل نہیں پایا دیکھ نہیں پایا۔۔۔اور آپ کہتی ہیں میں ایک غدار ہوں جو اپنی ماں جیسی دھرتی کا محافظ نہیں، میں کیسے اس کی بیٹی کو دوست مانوں بتائیں ماں۔


۔۔آج پھر میں نے زینی کے گھر سے کیپٹن شرما کو نکلتے دیکھا ہے۔۔۔معاذ شدّت غم وغصے سے سرخ ہوتی آنکھیں لیئے ماں سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ماں زینی کے بابا سے کیا مجھے غدار سے تعلق رکھنے والے ہر رشتے سے نفرت محسوس ہوتی ہے اور آپ کہتی ہیں بابا کے قاتلوں سے دوستی کر لوں؟
نائلہ بیٹے کو دیکھ رہی تھی شدت غم سے اس کی آنکھیں برسنے کو بیتاب تھی لیکن وہ بیٹے کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
۔
معاذ کی آواز بلند تھی 10 سالہ زینی نے ساری باتیں سن لی تھیں اور روتے ہوئے گھر بھاگ آئی۔۔۔
اس دن کے بعد سے شوخ وچنچل زینی بلکل خاموش ہو گئی تھی۔اس میں اتنی ہمت نہ تھی نہ ہی اتنی بڑی تھی کہ وہ اپنے بابا سے کوئی سوال کر سکتی۔۔۔۔

معاذ اور زینی سرینگر شہر میں رہتے تھے گھر پاس پاس تھے۔۔۔زینی کے والد پرویز ایک ڈاکٹر تھے اور کٹھ پتلی حکومت کے سیاسی کارکن بھی تھے۔

۔۔انڈین آرمی کے ساتھ ان کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہ تھے۔۔۔دوسرے لفظوں میں لوگ انہیں انڈیا کا وفادار کتا سمجھتے تھے۔معاذ کے والد تحریک آزادی کے کارکن تھے ،آزادی کی خاطر وہ دشمن کی بربریت کی نظر ہو گئے تھے۔۔دشمن نے انہیں گرفتار کرکے زندہ جلا ڈالا تھا۔۔۔۔۔۔
معاذ کے دل میں دشمن کے خلاف نفرت مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔

9دسمبر 2001

پیاری ڈائری جب سے میں نے ماں کو اپنی نفرت کی وجہ بتائی تب سے زینی دور ہو گئی ہے۔
۔اگر وہ ایک غدار کی بیٹی نہ ہوتی تو پھر میں اُسے ضرور دوست بنا لیتا۔۔
اپریل2010
بابا کے مشن کو تکمیل تک پہنچانا ہے۔۔پیاری ڈائری تم جانتی ہو خالی جذبہ کبھی بھی ہمیں ان کافروں سے جیت نہیں دلا سکتا۔۔۔۔میں ایک کامیاب ڈاکٹر بن گیا ہوں۔۔اور میں چاہتا ہوں کسی طرح انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کروں اور ان کی جڑیں کاٹوں۔۔۔۔بابا سے کیا عہد میں ہر حال میں نبھاؤں گا۔
۔۔۔
10 سال بعد 
پرویز زینی کی پڑھائی مکمل ہو گئی ہے۔۔۔ایک دو بہت اچھے رشتے ہیں جو میری نظر میں ہیں۔۔میں چاہتی ہوں اب ا س کے ہاتھ پیلے کر دوں رات کے کھانے کے دوران زینی کی ماں فضیلہ نے پرویز سے کہا۔۔۔۔ماں بابا مجھے شادی نہیں کرنی میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں آپ مجھے مزید پڑھنے کیلئے باہر بھجوادیں۔۔۔

اکلوتی بیٹی نے زندگی میں پہلی دفعہ کوئی فرمائش کی تھی یہ فرمائش جائز بھی تھی۔
۔پرویز جانتے تھے کہ ان کی یہ ذہین بیٹی ضرور کچھ الگ کرے گی۔

ضرور بیٹا اگر آپ پڑھنا چاہتی ہیں تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔۔۔پرویز نے بیٹی کے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔زینی کی آنکھیں محبت کے اس انداز پر نم ہو گئیں، زینی باپ کا شکریہ ادا کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔وہ کبھی کبھار معاذ کو دیکھ لیتی تھی۔۔6 انچ سے نکلتا قد چوڑے شانے نیلی آنکھیں۔

۔۔۔۔گوری رنگت۔وہ واقعی کسی سلطنت کا شہزادہ لگتا تھا۔۔۔۔بچپن کی یہ پسندیدگی پتہ نہیں کب زینی کے دل میں محبت کا بیج بو گئی تھی جو گزرے برسوں میں ایک مضبوط درخت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔۔۔

کیا ہوتا بابا جو آپ ایمان فروش نہ ہوتے۔۔۔۔بچپن میں کہی گئی معاذ کی باتیں اس کے دل کو چھلنی کر دیتی تھیں۔۔۔بابا میں چاہ کر بھی آپ سے نفرت نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔ہاں یہ میرا اس دھرتی سے وعدہ ہے کہ میں ایک ایمان فروش باپ کی بیٹی نہیں بلکہ کشمیر کی بیٹی بن کے دکھاؤں گی۔۔

اے کشمیر میں تیری بیٹی ہوں ہاں یہ وعدہ ہے میرا تجھ سے۔۔۔۔

آج تمہارے بابا کے ساتھ کچھ مہمان آرہے ہیں تم ڈرائنگ روم سیٹ کر دینا زینی۔۔فضیلہ نے زینی سے کہا۔
زینی ماں پھر کافروں کی دعوت ہو گی گھر خوب گلچھڑے اُڑیں گے۔۔۔بابا کو جلتا ہوا کشمیر کیوں نظر نہیں آتا ماں۔۔۔؟ جو انڈین آرمی کی پشت پناہی کرتے ہیں۔۔۔آج زینی پھٹ ہی تو پڑی تھی۔ زینی کی بات سن کے فضیلہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔۔اور وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
۔۔آگ اور خون کے اس کھیل میں کون غدار ہے اور کون اپنا۔۔۔اس بات کا فیصلہ کرنے کا وقت نہیں آیا تھا۔پرویز جو زینی کا پاسپورٹ اور ضروری چیزیں دینے آئے تھے بیٹی کی بات سن کر اُلٹے قدموں واپس لوٹ گئے۔
ہاں لوٹتے وقت اس کی آنکھوں میں اُتری خون کی سرخی کوئی نہ دیکھ سکا تھا۔۔۔
کہیں دور اب بھی آزادی کا نغمہ گونج رہا تھا، درد بھری آواز میں گانے والے اس شخص کو آج تک کوئی نہ جان سکا تھا ہاں اس کی آواز سے کشمیر کا بچہ بچہ واقف تھا۔


۔
اے کشمیر تیری خاطر میں جاں لٹا کے آیا ہو 
تیری قسمت میں لکھے سب اندھیرے مٹا کے آیا ہو۔
اے کشمیر تیری خاطر۔۔ اے کشمیر تیری خاطر
آگ اور خون کی یہ ہولی میں اپنے جسم پہ کھیل آیا۔۔
دشمن کا اک اک وار میں اپنے دل پہ سہہ آیا۔۔

زینی جب بھی یہ الفاظ سنتی تھی۔۔۔اس کے دل کی ہر دھڑکن اس عہد پہ لبیک کہتی تھی۔۔نغمہ تو کب کا ختم ہو گیا تھا لیکن ان الفاظ کی گہرائی اُسے کسی اور دنیا میں لے گئی تھی۔

۔۔فضیلہ کی آواز اُسے سوچوں کی دنیا سے باہر لے آئی تھی۔۔۔بیٹا زینی نائلہ آنٹی کا بیٹا آیا ہے تمہارے بابا کے ساتھ ان کی لائبریری میں ہے۔۔۔چائے تیار کر لو ساتھ میں شامی تل لو او ر بسکٹ نمکو بھی رکھ لینا۔۔۔
نائلہ آنی کا بیٹا ماں۔۔۔؟ زینی نے حیرت سے پوچھا۔۔ہاں وہی اب جلدی کرو۔۔۔مجھے باقی کام دیکھنے ہیں۔۔فضیلہ شائد جلدی میں تھی بیٹی کے چہرے پہ پھیلنے والی حیرت نہ دیکھ پائیں۔
۔۔
معاذ اور پرویز باتیں کر رہے تھے جب زینی چائے کی ٹرالی دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور وہ دونوں خاموش ہوگئے۔۔۔۔زینی نے سلام کیا اور خاموشی سے چائے سرو کرنے لگی۔۔۔کمرے میں چھائی خاموشی کو پرویز نے توڑا۔۔۔
اور معاذ کو بتایا کہ یہ زینیہ ہے۔۔۔حال ہی میں ماسٹرز کمپلیٹ کر کے آئی ہے ممبئی سے۔۔۔اب مزید تعلیم حاصل کرنے باہر جا رہی ہے۔
۔۔
معاذ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا۔۔یہ تو اچھی بات ہے انکل اور آج کے دور کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہماری قوم اعلی تعلیم حاصل کرے۔۔۔زینی انہیں چائے دے کر باہر نکل گئی۔۔۔

زینی دھڑام سے بستر پر گری۔۔یہ یہاں بابا کے ساتھ۔۔۔۔ کیا یہ بابا کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتا۔۔۔؟اللہ نہ کرے۔۔۔لیکن معاذ کو توہماری فیملی سے نفرت تھی۔
۔۔کئی سوال زینی کے دماغ میں سر اٹھارہے تھے۔لیکن کوئی سِرا ہاتھ نہ آیا۔۔۔۔۔زینی بد دل ہو کر ماں کے ساتھ کچن میں کام کرانے لگی۔۔

ماں یہ انیلا خالہ کا بیٹا کیوں آیا تھا۔؟ کیا اسے کوئی کام تھا بابا سے ۔۔۔زینی نے ماں سے پوچھا۔
ہاں بیٹا معاذ برطانیہ سے اسپیشلائزیشن کر کے آچکا ہے وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہے۔۔۔وہ چاہتا ہے تمہارے بابا اسے انڈین آرمی میں کمیشن دلوادیں۔

۔اگر یہ نہ ہوا تو ممبئی میں ہی کسی بڑے ہاسپٹل میں لگوا دیں۔۔وہ یہاں سے اپنی ماں کو بھی لے جانا چاہتا ہے۔۔۔فضیلہ بیگم پھرتی سے کام نمٹا نے کے ساتھ ساتھ زینی کو معاذ کے آنے کا سبب بتانے لگیں۔۔۔یہ بات سنتے ہی زینی کو زوردار چکر آیا اس نے پاس کھڑی ماں کو تھاما اور اپنے آپ کو گرنے سے بچایا۔۔۔فضیلہ زینی کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر گھبرا گئیں۔
۔کیا ہوا زینی تم ٹھیک تو ہو نا؟ فضیلہ زینی کو جلدی سے روم میں لے گئیں اور پرویز کو فون کرنے لگیں۔۔۔۔
جلدی آئیں پرویز ۔۔وہ ززززینی۔۔۔۔۔زینی کو چکر آیا اور وہ گرتے گرتے بچی ہے۔۔۔اس کا رنگ ہلدی کی طرح پیلا ہورہا ہے۔۔آپ جلدی سے گھر آجائیں۔۔

زینی کا بلڈپریشر لو ہوا ہے۔۔۔۔کھانے پینے کا خیال نہیں رکھتی کمزوری بھی ہے۔۔۔دوا دی ہے۔
۔۔ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ڈاکٹر پرویز نے فضیلہ کو تسلی دی۔
کیا دنیا کی محبت اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو اور اپنے خدا کو بھول جائیں۔۔۔طلبِ دنیا ضمیر کو مار دیتی ہے۔۔۔معاذ بھی غداروں میں سے ہو گیا۔۔اپنے بابا کی جلی لاش بھول گیا۔۔کشمیر میں بہتا لہو بھول گیا۔۔۔اپنا فرض بھول گیا۔۔۔۔معاذ تمہیں تو غدار کی بیٹی سے بھی نفرت تھی۔

۔اور اب تم خود ایک۔۔۔اس سے آگے زینی نہ سوچ سکی اور سن ہوتے دماغ کے ساتھ نیند کی گہری وادی میں کھوگئی۔۔
اب کیسی طبیعت ہے زینی بیٹا۔۔۔ڈاکٹر پرویز نے زینی کے سر پہ ہاتھ رکھا اورپوچھا۔۔۔بیٹا آکسفورڈ یونورسٹی میں ایڈمشن ہو چکا ہے۔ پاسپورٹ بھی آگیا ہے۔۔۔دو دن بعد کی ٹکٹ بھی کنفرم ہے۔۔باقی سب انتظامات بھی ہو چکے ہیں۔۔اب جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ میرا بیٹا۔بابا کی ان محبتوں پہ وہ ہمیشہ موم ہو جاتی تھی جو بھی تھے جیسے بھی تھے وہ اس کے بابا تھے۔۔اس کے لیئے تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں تھے۔زینی اپنے بابا کے گلے لگ گئی اور اور مسکرائے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرنے لگی۔

سری نگر ائر پورٹ پر بابا ماں کے ساتھ معاذ بھی زینی کو سی آف کرنے آیا تھا۔۔۔وہ معاذ کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی اس نے آنکھوں پر گلاسز چڑھا لیئے تھے بلیک سکارف میں اس کی سنہری رنگت دمک رہی تھی۔۔۔۔ہونٹوں پہ زبردستی کی مسکراہٹ سجائے وہ پہلے ماں سے ملی تھی۔۔۔فضیلہ بیگم کی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں۔۔۔ماں میرے لیئے دعا کریں۔۔اپنے آنسوؤں کو میرے پیروں کی زنجیر مت بنائیں۔
۔۔۔۔۔
میں تو کچھ عرصے کیلئے آپ لوگوں سے بچھڑ رہی ہوں۔۔۔
ان لاکھوں والدین کا دکھ۔۔۔کشمیر کا دکھ محسوس کریں جن کی حوروں جیسی بیٹیوں کی معصومیت چھین کے درندے آئے روز موت کے گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔۔ اور ہم بے حس اور بے ضمیروں کی طرح اپنی زندگیوں میں ایسے مگن رہتے ہیں جیسے کچھ ہوتا ہی نہیں۔


۔کچھ ہوا ہی نہیں۔۔

یہ سب اس نے بابا اور معاذ کو سنایا تھا پرویز نے تو اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا تھا جبکہ معاذ کے چہرے پہ آکے گزر جانے والا نادیدہ رنگ کوئی نہیں دیکھ سکا تھا۔

۔۔اتنے میں اناؤسمنٹ ہونے لگی تھی۔۔زینی سب کو الوداع کہہ کر آگے کو بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔
سیٹ پر بیٹھتے ہی۔۔۔کب سے رُکے آنسو اس کے سنہری گالوں پر بکھر گئے تھے۔۔۔۔
کبھی کبھی دل بلکل خالی ہو جاتا ہے۔۔۔۔ہر احساس مر جاتا ہے۔۔۔۔یوں محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔جیسے ہم مر گئے ہوں۔ہمارے مرتے ہی دُکھ درد خوشی۔۔۔یہ ساری دنیا مر گئی ہو۔۔۔۔یہ احساس تب ہوتا ہے۔
۔جب درد سہنے کی اور ہمت نہیں رہتی۔۔
زینی بھی تو سہہ رہی تھی غلامی کی اذیت 
جان سے پیارے لوگوں کا کھوکھلا ہونا۔۔۔خاندان کا غدار ہونا۔۔۔

اپنی جیسی لڑکیوں کی آروز اور عزتیں برباد ہوتا دیکھنا بابا جیسے مردوں معاذ جیسے نفس پرست ہی کشمیر کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ محسوس ہوتے تھے۔۔
اذیت کے یہ خوفناک اژدھے اس کے سارے احساسات پتھر کر رہے تھے۔
۔۔
ہاں زینی کو پتھر ہونا ہے۔۔۔تاکہ میرے مقصد کی راہ میں کوئی کانٹا کوئی پتھر نہ آئے۔۔۔۔اس کا مقصد واقعی بہت بلند اور بڑا تھا۔۔وقت سے پہلے اس کے مقصد کی کسی کو خبر بھی لگ جاتی تو کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو جاتا۔۔۔۔خبر لگتی بھی کیسے اس کا یہ مقصد اور مشن کشمیر کیلئے تھااور کشمیر کی جان پاکستان کیلئے تھا۔۔۔اپنے مقصد کو سوچ کے زینی کے لب خود بخود مسکرانے لگے تھے۔

۔۔۔اس کا مشن اور پروجیکٹ آنے والے وقتوں میں دشمن دنیا کو ہلا کے رکھ دینے والا تھا۔۔۔۔
ہر دکھ اور درد کے احساس کو دفنا کر اسے وہ زینیہ پرویز آج پتھر کی ہو گئی تھی۔۔۔زینی نے سیٹ پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔وہ سوچ رہی تھی اچھا تعلیمی بیک گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے اُسے کسی بھی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں پارٹ ٹائم جاب مل سکتی ہے۔۔۔۔آگے پڑھنے کیلئے آنا تو اک بہانہ تھا۔
۔۔یہاں انگلینڈ آکر وہ اپنے پروجیکٹ پر بہتر انداز میں کام کر سکتی تھی۔۔۔

جیسے ہی وہ ائر پورٹ پر اُتری اُسے دیکھتے ہی ایک لڑکی اس کی طرف لپکی۔۔اور اُسے اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔ وہ لڑکی اُسے ہاسٹل چھوڑ کر ہر چیز کے بارے گائیڈ کر کے جا چکی تھی۔۔۔لڑکی نے اُسے بتایا۔۔۔ایک ترک لڑکا بھی اس کا روم میٹ ہے اور اس کے ساتھ روم شیئر کرے گا اور وہ بھی دو دن تک آجائے گا۔۔ایک نامحرم کے ساتھ وہ روم شیئر نہیں کر سکتی تھی۔۔۔اُسے اس لڑکے کے آنے سے پہلے پہلے کہیں قریب کے ایریا میں کوئی گھر ڈھونڈنا تھا جہاں وہ ایک پیئنگ گیسٹ کے طور پر رہ سکے۔۔۔

سوچوں میں گھری زینی نے سامان سیٹ کیا فریش ہونے کے بعد۔۔۔ کمرے کے ساتھ اٹیچ کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔کچن میں ایک چھوٹے سائز کافریج بھی موجود تھا۔۔ایک اوون اور چولہا بھی موجود تھا۔۔کچن کو بڑے اچھے انداز سے سیٹ کیا گیا تھا۔۔ہورے کچن کا سرسری جائزہ لینے کے بعد زینی فریج کی طرف بڑھی۔۔۔فریج میں انڈے سلائس اور دودھ موجود تھا۔۔۔جہاز میں کھانے کی وجہ سے بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
تھکاوٹ کی وجہ سے کافی کی طلب محسوس ہورہی تھی۔۔ زینی نے اپنے لیئے کافی بنائی اور ٹیرس پہ آگئی۔۔بابا اورماں کو اپنے خیریت سے پہنچ جانے کی اطلاع دے کر کافی سے لطف اندوز ہونے لگی۔۔۔اب اس کی سب سے بڑی فکر اپنے لیئے رہائش کا مناسب انتظام تھا۔۔۔کچھ دیر کے بعد کمرے میں آئی اور آرام کی غرض سے لیٹ گئی۔


۔۔۔زینی کی آنکھ کھلی تو عصر کا وقت ہورہا تھا۔

۔۔زینی اُٹھی وضو کر کے آئی اور نماز پڑھی۔۔۔ اور اپنے آپ سے مخاطب ہوئی، پہلے کی نسبت طبیعت فریش محسوس ہو رہی ہے۔۔۔۔ چل زینی اُٹھ ہمت کر باہر کا چکر لگا کیا بد روحوں کی طرح مردم بیزار بن کے رہنا ہے۔۔۔
زینی باہر گراؤنڈ میں چلی آئی تھی۔۔۔گراؤنڈ میں بہت کم تعداد میں لوگ موجود تھے۔۔۔زینی اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔۔
بلیک کلر کے ڈھیلی ڈھالی لونگ شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہنی ہوئی تھی۔

۔ اور بلیک اسکارف کے ساتھ حجاب اس کی سنہری رنگت کو عجیب سا نور بخش رہا تھا۔۔۔زینی ناریل کے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر آسمان پر اُڑنے والے پرندوں کو اُداس نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔اس کی حسین کالی آنکھیں دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا۔۔جیسے سمندر میں شام اُتر رہی ہو۔۔ اور دیکھنے والوں کو ایک دفعہ اُسے رُک کر دیکھنے پر ضرور مجبور کر رہی تھیں۔
۔۔
داؤد وہ لڑکی دیکھو پاکستانی لگتی ہے۔۔لگتا ہے نئی آئی ہے۔اکیلی بھی لگ رہی ہے اور اُداس بھی۔۔مریم نے اپنے ساتھ بیٹھے داؤد کی توجہ زینی کی جانب مبذول کروائی۔۔۔داؤد کی نظر جیسے ہی زینی پر پڑی چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔۔۔ہے ناں میں تو لڑکی ہو کے چونک گئی ہوں پر لگتا ہے داؤد تم گئے کام سے اس کو دیکھتے ہی۔۔۔ مریم نے داؤد کا کندھا زور سے ہلایا تو داؤد چونکا۔

۔اور مریم کی بات پر اُسے گھور کے دیکھنے لگا۔۔۔
تمہارا تو غصہ ہی ناک پہ دھرا رہتا ہے۔۔۔تم کچھ دیر بیٹھ کے سڑڑو میں آتی ہوں مریم نے داؤد سے کہا اور اس کے قدم زینی کی طرف بڑھنے لگے۔

 O Hello..!
sweet girl listen to me!
۔۔۔?which country۔۔۔۔ 
?Are you from pakistan
?I mean it's just here.. 
? Which country's princess you are 
 مریم نے اس کا بازو ہلایا اور ایک ہی سانس میں اپنی بات دہرائی۔
۔
زینی نے چونک کے مریم کی طرف دیکھا۔۔۔ اسے کچھ اپنائیت کا احساس ہوا اورتسلی بھی اس کے پاس کھڑی لڑکی پاکستانی لگ رہی تھی۔۔

زینی مسکرائی اور کچھ سوچ کر کہا۔۔۔(ویسے بھی اس کا ڈومیسائل اور آئی ڈی کارڈ سب انڈیا کا تھا اس کے بابا نے ایڈریس بھی ممبئی شہر کا لکھوایا تھا اس کے آئی ڈی کارڈ پہ۔۔اس کی تعلیمی اسناد بھی وہیں کی تھیں اس کے مشن کا تقا ضہ بھی یہی تھا کہ وہ اپنے آپ کو انڈیا کا ظاہر کرتی)

no l'm not from Pakistan.Iam from India. 
مریم نے پھر پوچھا 
Oh well... 
?!then why, do you know Urdu
زینی اپنائیت سے مسکرائی اور اثبات میں سر ہلایا۔

پھر تو بہت اچھا ہے یاررر۔۔۔انگریزی بول بول کہ منہ ٹیڑھا ہو گیا تھا میرا مریم کھلکھلائی۔۔۔۔۔کوئی تو ملا۔۔۔۔میں مریم ہوں حال ہی میں فزکس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ ہوا ہے یہاں اور جس پروگرام میں داخلہ ہوا اس کے بارے میں بھی بتایا۔۔کل آئی ہوں پاکستا ن سے وہ جو سامنے بیٹھا ہے وہ میرا کزن ہے یہاں ہوتا ہے مجھ سے ملنے آیا ہے۔۔۔مریم نے داؤد کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
۔
زینیہ نے مسکراتے ہوئے مریم کو اپنے بارے میں بتایا۔۔۔اور یہ بھی کہ زینیہ نے بھی اسی کورس میں داخلہ لیا ہے جس میں مریم کا ایڈمشن ہوا ہے۔۔۔

میں تو خوشی سے پاگل ہو رہی ہوں کہ شکر ہے تم مجھے مل گئی۔۔۔۔نہیں تو میں بہت پریشان تھی زینیہ۔۔۔۔مریم نے زینیہ کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔زینیہ مریم کے اس انداز پر مسکرا دی۔۔۔
کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نہ یہاں آپ کو۔

۔مریم نے اس سے پوچھا۔۔۔زینی کہنے لگی باقی سب تو ٹھیک ہے۔۔۔بس ایک مسئلہ ہے اب تم ہو نہ مل کے حل کر لیں گے۔۔۔میرا روم میٹ ایک لڑکا ہے وہ دو دن کے بعد آئے گا۔۔میں ایک نا محرم کے ساتھ نہیں رہ سکتی اوہ۔۔میں داؤد سے کہتی ہوں ہم دونوں کو ایک روم میں ایڈجسٹ کرا دے۔۔تم پریشان نہ ہو مریم نے زینی کو تسلی دی۔۔ میں داؤد سے بات کر کے آتی ہوں ویسے بھی اُسے جلدی ہے اس نے جانا ہے۔

۔۔۔ بلکہ تم بھی چلو میں تمہیں داؤد سے ملوا دوں۔مریم زینی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے لے گئی۔ داؤد یہ زینی ہے۔۔میرے ہی ڈیپارٹمنٹ کی ہے۔۔۔اور زینی کا مسئلہ داؤ د کو بتایا۔آپ پریشان نہ ہوں زینی۔ آج آپ مریم کے روم میں رہ لیں کل صبح ہی آپ کا کام ہو جائے گا۔۔

زینی نے داؤد کا شکریہ ادا کیا۔۔اٹس اوکے آپ بھی میرے لیئے مریم جیسی ہیں۔۔۔داؤد نے زینی سے کہا۔۔اور مریم کو چند نصیحتیں کر کے جانے کیلئے مڑ گیا۔۔۔مریم برے برے منہ بناتی زینی کا ہاتھ تھامے روم میں واپس آگئی۔۔۔

زینی۔۔ مریم اپنی گردن کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے زینی سے پوچھنے لگی۔ جب ہاسٹل کا فارم فل کر تے ہیں تو یہ آپ کی سہولیات اور عادات سے متعلق پوچھتے ہیں۔۔اور آپ کی عادات کو مدِنظر رکھ کر ہاسٹل روم اور دیگر سہولیات مہیا کرتے ہیں۔۔۔؟ 

کیا تم نے اپنا فارم خود فل نہیں کیا تھا۔۔۔؟ زینی مریم کی بات پر چونکی۔۔۔اور کہنے لگی۔۔نیہا نے ہی میرا اور اپنا فارم فل کیا تھا۔
۔۔فارم فل کرتے وقت وہ مجھے بھی ساتھ ساتھ بتا رہی تھی۔۔۔ چند سوالات جیسے آپ ڈرنک کرتے ہیں ۔
اور بھی کئی ایسے سوالات تھے جن کے جواب اس نے سیرئس ہو کے نہیں دیئے تھے۔۔۔شائد اس وجہ سے ایسا ہوا ہے۔۔ اس نے ڈرنک، بوائے فرینڈ اور اسموکنگ کے بارے پوچھے گئے سوالات کا جواب غیر سنجیدہ انداز میں دیا تھا۔


۔۔تو ہاسٹل انتظا میہ مجھے دوسری قسم کی لڑکی سمجھی ہو گی۔

۔۔۔ اس وجہ سے انہوں نے روم میٹ بھی لڑکے کو بنا دیا۔۔۔ زینی نے پریشان لہجے میں مریم کو بتایا۔۔۔
اوہ چلو اب تو ہوا جو ہونا تھا ہو گیا۔۔
اب داؤد کر وادے گا روم چینج تم پریشان نہ ہو۔۔۔مریم کے تسلی دینے پر زینی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
########
اگلے دن وہ دونوں 10 بجے کے قریب یونیورسٹی پہنچیں۔۔۔اپنی کلاسسز اور ٹائم ٹیبل کے بارے پتہ کیا۔
۔اور ہاسٹل واپس آگئیں۔۔۔ابھی کلاسسز شروع ہونے میں دو دن باقی تھے۔۔۔۔
کچھ دیر تک داؤد بھی آ گیا تھا۔۔۔اس نے کچھ فارم مریم کو پکڑائے۔۔۔مریم اور زینی نے فارم فل کر کے دیئے۔۔۔۔فائنلی روم چینج ہو گیا ہے۔۔۔۔زینی اب تم میرے ساتھ رہو گی۔۔۔مریم ہنستے ہوئے زینی کے گلے لگ گئے۔۔۔۔
کچھ دیر تک داؤد بھی کافی پی کر رخصت ہو گیا۔۔۔ یاررر۔

۔۔ ایک تو یہ جو میرا کزن ہے نہ بے حد سڑیل مزاج ہے۔۔۔مجھ سے کہنے کو تو چار سال بڑا ہے۔لیکن مجھے تو لگتا ہے مجھ سے چالیس سال بڑا ہو۔۔۔ایسے رُعب ڈالتا ہے کہ بس۔۔۔اب اسے پتہ ہے نہ ہم دو دن فارغ ہیں۔۔ایک دفعہ بھی انگلینڈ گھمانے کی آفر نہیں کی۔۔۔مریم آنکھوں کو گول گول گھماتے ہوئے داؤد کے بارے بتا رہی تھی۔۔۔
زینی کو مریم کے انداز پہ ہنسی آئی۔
۔۔وہ ریکس میں سے دو نیوکلیئر فزکس کی بکس اٹھا کے لائے۔۔۔ایک مریم کو تھمائی اور کہنے لگی۔۔۔اب تم فارغ نہیں رہو گی۔۔۔۔تمہارے لیئے مصروفیت ڈھونڈ لی ہے مریم۔۔۔
مریم نے برا سا منہ بنا کے کتاب زینی کی طرف اچھالی اور کہا۔۔۔ایسی مصروفیت آپ ہی کو مبارک ہو زینی بی بی۔۔۔۔اور بلینکٹ سر تک تان کر سو گئی۔۔۔
زینی نے ہنستے ہوئے کتاب کھولی اور پڑھنے لگی۔

۔۔زینی کتاب میں محو تھی۔۔۔مریم نے اس کو آواز دی لیکن زینی اس قدر محو تھی کہ اسے مریم کی آواز سنائی نہ دی۔۔مریم نے اٹھ کر زینی کا بازو ہلایا اور کہا۔۔۔۔اس قدر مگن ہو تم اتنی خشک کتاب میں پچھلے گھنٹے سے گھسی ہو۔۔۔اُفففف میں تو کورس بکس بھی بڑی مشکل سے پڑھتی ہوں۔۔۔۔

مریم بیزار دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔ایک تو گھر سے دوری اوپر سے ماما بابا یاد آ رہے۔
۔۔۔دو دن اسی روم میں سڑتے رہے نہ میں فوت ہو جاؤں گی یار۔۔۔۔مر یم روہانسی ہو گئی۔۔۔یو لگتا تھا ابھی ر و پڑے گی۔۔۔
زینی نے بکس بند کی دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنا کر اپنا چہرہ اس میں ٹکایا۔۔۔۔اور محویت سے مریم کو دیکھنے لگی۔۔
کس قدر معصومیت اور بے نیازی تھی۔۔۔بے فکری تھی۔۔۔جو صرف بور ہونے اور ممی کی یاد آنے پر رونے والی ہو گئی تھی۔

۔۔کیا فرق ہے ہم دونوں میں زینی باغی دل پھر بغاوت پر اُتر آیا تھا۔۔۔بہت فرق ہے زینی۔۔۔وہ آزاد دنیا کی فرد ہے اور تم ایک غلام دنیا کی۔۔وہ اس لیئے بے فکر اور آزاد ہے اور تم۔۔۔۔۔غلام غلام۔۔۔۔۔۔غلام۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا دل چیخ رہا تھا۔۔۔اس نے دل کی سنی کب تھی جو اب سنتی۔۔۔۔۔اس نے دونوں ہاتھ اپنے کانوں پہ رکھے اور بھاگتے ہوئے روم سے باہر نکل گئے۔
۔۔۔
مریم جو اس کی حرکت پر دنگ کھڑی تھی ہوش آنے پہ زینی کے پیچھے بھاگی۔۔۔
زینی ہاسٹل کے سب سے آخری گراؤنڈ کی سیڑھیوں پہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی۔۔۔
مریم ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر کار زینی تک پہنچ گئے۔۔۔۔
کیا ہوا زینی۔۔۔سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔۔

زینی نے مریم کی آواز سن کر سر اوپر اٹھایا۔۔۔مریم نے زینی کا ہاتھ پکڑا تو وہ اسے برف کی طرح سرد محسوس ہوا۔
۔۔زینی کچھ پوچھ رہی ہوں بتاؤ یارر۔مریم اپنی بوریت بھول چکی تھی۔۔۔اب زینی کیلئے پریشان کھڑی تھی۔۔۔
مریم کو پریشان ہوتا دیکھ کر۔۔۔زینی نے اپنی حالت پر قابو پایا۔۔۔۔اٹھ کر ایک بازو زینی کے گلے میں ڈال کر اسے کہنے لگی۔۔۔کچھ نہیں مجھے بھی ماں اور بابا یاد آرہے ہیں۔۔۔۔
پاگل کہیں کی مجھے ڈرا کے رکھ دیا تم نے کتنی دیر سے ڈھونڈ رہی ہوں تمہیں۔
۔۔ایسے بھی کوئی ری ایکٹ کرتا ہے۔۔۔۔ایک ہاتھ سے زینی کا کان کھنچتے ہوئے مریم نے اس کی کلاس لے ڈالی۔۔
زینی زبردستی مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
پھر کیا پروگرام ہے زینی چلیں آؤ ٹنگ پہ باہر۔۔؟ 
نوڈلز منہ میں میں ڈالتے ہوئے مریم نے زینی سے پوچھا۔۔۔

آج تو کچھ طبیعت بھی ٹھیک نہیں کل چلیں گے اورمیں نے سنا تھا کہ کیمپس سے کچھ ہی فاصلے پر ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہے۔۔۔سوچ رہی پارٹ ٹائم جاب کر لوں۔۔۔

آگے ریسرچ اور تھیسس ورک بھی آسان ہو جائے گا اور نیو کلیئر فزکس کے بارے پریکٹیکلی بھی بہت کچھ سیکھ لوں گی۔۔۔
مریم اس کی بات پر پُر سوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ (جاری ہے)


Download Link




Post a Comment

COMMENT POLICY:
We have Zero Tolerance to Spam. Chessy Comments and Comments with 'Links' will be deleted immediately upon our review.