Tuesday, January 07, 2020

Shehr E Dil Novel By Umme Maryam Download Pdf

Shehr E Dil Novel By Umme Maryam Download Pdf


shehr e dil

Shehr e Dil Novel Love is to rise from the ground, to rise from the mercy of the Lord. Love is a beautiful form of the Lord's mercy. In any color, in any style, it is always special, lovely and important. This novel is also written on a topic like love.


Read:


Shehr e Dil Novel Complete


انتساب!

” صفیہ“ کے نام

اللہ ربّ العزت سے اِلتجا ہے کہ

اس کے تمام دُکھ سکھوں، راحتوں اور اطمینان میں بدل دے

آمین! ثم آمین!

 اُمِ مریم





مسلسل روکتی ہوں اس کو شہرِ دل میں آنے سے

مگر وہ کوہ کن رُکتا نہیں دیوار ڈھانے سے


بھلا کیا دُکھ کے آنگن میں سلگتی لڑکیاں جاتیں
کہاں چھپتے ہیں آنسو آنچلوں میں منہ چھپانے سے

تجھے تنہا محبت کا یہ دریا پار کرنا ہے
ندامت ہوگی اس کے حوصلوں کو آزمانے سے

ابھی تو عشق میں آنکھیں بجھی ہیں دل سلامت ہے
زمین بانجھ ہوتی ہے کبھی فصلیں جلانے سے

تجھے بھی ضبطِ غم کے شوق نے پتھر بنا ڈالا
تجھے اے دل بہت روکا تھا رسم و راہ نبھانے سے

پیش لفظ

 ”شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے“
 ”تمام تر لازوال، بے مثال تعریفوں کے لائق ہے وہ پاک ذات جو تمام جہانوں کی خالق و مالک ہے۔“
 پھول ہی پھول ہیں تاحد نظر
 آتشی، آسمانی، گلابی، کاسنی، چمپئی، ارغوانی
 کتنے مشتاق ہاتھوں نے
 کتنی یاسمیں، یاسمیں اُنگلیوں نے
 اس طرح سے سجایا سنوارا انہیں
 اور پھر اہل نظر اور تحسین چشم نگاراں ملی
 یہ نہ سوچا کسی نے کہ شاخ نے گل سے ٹوٹ کر
 حسن کے اس سفر میں
 کس طرح کی اذیت اُٹھائی
 ہم کہ جو لکھنے والے ہیں نوکِ قلم سے
 فکر کے پھول مہکا رہے ہیں
 اپنی سوچوں کی تابندگی سے عارضِ وقت چمکا رہے ہیں
 ایک وقت ایسا بھی آ رہا ہے جبکہ دیوان اپنے
 آبنوس اور مرمر کے شلفوں میں
 پتھر کی مانند سج جائیں گے
 یاسمیں، یاسمیں، اُنگلیاں شعر کے لمس سے بے خبر
 ان کی ترتیب دیں گی
 کتنی نرگسی نرگسی آنکھیں
 حسن ترتیب کی داد دیں گی
 اس حقیقت سے ناآشنا
 حسن تخلیق کے اس سفر میں
 ہم نے کیسی اذیت اُٹھائی ہے روز و شب

###
 ڈئیر قارئین!

 آپ کی خدمت میں اپنی ایک اور کاوش ”شہرِ دِل“ لے کر حاضر ہوئی ہوں۔


اُمید کرتی ہوں اپنے ربّ کریم سے کہ پہلے کی طرح یہاں بھی میری تحریر کو پذیرائی، چاہت اور پسندیدگی سے نوازے گا، اور کسی مصنف کو اس سے بڑھ کر اور کچھ چاہئے بھی نہیں ہوتا کہ اس کی تحریر کو یہ احساس مل جائے۔ اور الحمدللہ ثم الحمد للہ ”تیری چاہ میں تیری راہ میں“ کے بعد ”میرے ساحر سے کہو“ کی بے پناہ پذیرائی پہ مجھ تک آپ کے احساسات پہنچتے رہے ہیں۔

الحمد للہ آپ میری کوئی تحریر معیار کے لحاظ سے پہلی سے کمتر نہیں پائیں گے۔

 ”شہر دل“ کے بارے میں صرف یہ کہوں گی کہ اس میں آپ کی دلچسپی اس لئے بھی بڑھے گی کہ یہ ناول کسی ڈائجس
 میں شائع کرائے بغیر بک کی صورت شائع ہوا ہے۔ یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو محبت کو کھونے سے خائف ہے۔ یہ تحریر بھی محبت کے خاص اہم اور حساس موضوع پر لکھی گئی ہے۔

ایسی کیفیات کے بیچ جب میرا دل اس احساس کے ساتھ ملول تھا کہ دُنیا سے محبت اُٹھتی جا رہی ہے جو کہ نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ میں سمجھتی ہوں محبت کا زمین سے اُٹھنا، ربّ کی رحمت کا اُٹھنا ہے۔ محبت رب کی رحمت کا ہی ایک خوب صورت روپ ہے۔ کسی بھی رنگ میں ہو، کسی بھی انداز کے ساتھ، یہ ہمیشہ خاص، پیاری اور اہم ہوتی ہے۔اس لئے اسے خود سے بچھڑنے مت دیں۔

بس یہی میرا پیغام ہے۔

 مجھے لکھتے ہوئے پانچ سال ہونے والے ہیں اور ان پانچ سالوں میں، میں نے بے تحاشہ اور بہت لکھا ہے مگر تشنگی کا عالم یہ ہے کہ جیسے ابھی کچھ بھی نہیں لکھا۔

 بقول شاعر

 بہت کچھ اور لکھنے کی تمنا تھی
 مگر میں کیا کروں کہ موسم جاں کو
 ہنرمندی کے لمحے کم میسر تھے
 ابھی میں نے قلم پکڑا تھا ہاتھوں میں
 ابھی تو پیاس بھی قرطاس کی بجھنے نہ پائی تھی
 ابھی لفظوں کو میرے آئینہ پوشاک ہو کر
 تیرگی کی بدگماں دہلیز پر
 خورشید کی صورت اُترنا تھا
 ابھی تو میری تحریر وں کو
 تازہ روشنی بن کر بکھرنا تھا
 مگر میں کیا کروں کہ موسم جاں کو
 ہنر مندی کے لمحے کم میسر تھے۔

 تشنگی کا یہ عالم ہے، مجھے میری کچھ فرینڈز نے جنونی رائٹر کا ٹائٹل بھی دیا ہے، جو شاید اتنا غلط بھی نہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ میرے لئے دُعا کیجئے گا کہ خدا میرے قلم کو باوقار نکھار بخشے، آمین!

 کسی بھی کتاب کو کامیاب بنانے کے لیے جتنی کوشش رائٹر کو کرنی پڑتی ہے۔ اتنی ہی کوشش پبلشر کو کرنی پڑتی ہے۔

پچھلے کچھ عرصہ میں میری کتابوں کے حقوق اشاعت حاصل کرنے کے بعد ادارہ علم و عرفان پبلشرز نے اس ذمہ داری ک
 میری توقعات سے زیادہ بہتر طور پر ادا کیا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قارئین میری اس رائے سے اتفاق کریں گے۔
 اُمِ مریم

     شہرِ دل
ہوا تھمی تھی ضرور لیکن 
وہ شام جیسے سسک رہی تھی
کہ زرد پتوں کو آندھیوں نے 
عجیب قصہ سنا دیا تھا
کہ جس کو سن کے تمام پتے 
سسک رہے تھے، بلک رہے تھے 
جانے کس سانحے کے غم میں 
شجر جڑوں سے اُکھڑ رہے تھے 
بہت تلاشا تھا ہم نے تم کو 
ہر ایک وادی، ہر ایک رستہ 
کہیں سے تیری خبر نہ آئی 
تو یہ کہہ کے ہم نے دل کو ٹالا
ہوا تھمے گی تو دیکھ لیں گے 
ہم اس کے رستے کو ڈھونڈلیں گے
مگر ہماری یہ خوش خیالی
جو ہم کو برباد کر گئی تھی
ہوا تھمی تھی ضرور لیکن
بڑی ہی مدت گزر گئی تھی

سر سبز لان میں موجود درختوں کے پار سورج دھیرے دھیرے غروب ہو رہا تھا۔


ایک اور دن تمام تر مصروفیات اُلجھنوں سمیت پردہٴ مغرب میں ڈھلنے جا رہا تھا۔ اس کے اندر بھی رخصت ہوتی اسی شام میں ویرانی پنجے گاڑھ کر بیٹھ گئی تھی۔ کل شام جب وہ لان میں کین کی کرسی پر بیٹھی ہیڈ سٹ کانوں پر چڑھاکر میوزک اِنجوائے کر رہی تھی، پپا کی گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہوئی تھی۔ اس نے سرسری سے نگاہ ڈالی اور فضہ کا بیک کیا ہوا کیک کھانے میں مشغول ہوگئی تھی۔

پپا ان کی سمت آنے کی بجائے گاڑی سے نکل کر سیدھے اپنے بیڈ روم میں چلے گئے تھے۔ یہ کوئی ایسی چونکا دینے والی بات تو نہیں تھی۔ کم از کم اس کے لئے مگر مما ضرور پریشان ہوئی تھیں جبھی اپنا چائے کا مگ چھوڑ کر خود بھی ان کے پیچھے چلی گئی تھیں۔
”مجھے لگتا ہے کوئی پرابلم ہے…؟“

فضہ نے اُٹھ کر اس کے سر سے ہیڈ سیٹ اُتار کر رکھتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ایمان نے خفگی سے اُسے دیکھا اور نفرت سے سر جھٹک دیا تھا۔
”تم پاکستانی عوام ہونے کا پورا پورا ثبوت دیا کرو۔ہر بات میں تشویش،ہر بات میں گھبراہٹ…؟“
وہ فطرتاً بے نیاز تھی اور کچھ بے حس بھی۔ یہ دوسرا خالصتاً فضہ کا خیال تھا۔ فضہ کے ساتھ مما بھی کچھ دنوں سے پپا کو پریشان محسوس کر رہی تھیں مگر مما کے کریدنے پہ بھی انہوں نے کچھ بتا کر نہیں دیا تھا، سوائے اس کے کہ آفیشل پرابلم ہے۔

وہ پچھلے کئی دنوں سے بہت پریشان تھے اور اپنا اضطراب ظاہر کرنے سے گریزاں تھے۔ مگر یہ بھی صحیح تھا کہ ان کی پریشانی ان کی ہر ادا سے چھلکتی تھی۔ وہ راتوں کو سوچیں پال رہے تھے۔ ناشتہ کھانا معمول سے کہیں کم ہو کر رہ گیا تھا۔ گم سم اپنی سوچوں میں کھوئے ہوئے۔ کوئی ان سے بات کرتا تو وہ یوں بڑبڑاتے۔ غرض وہ پریشان تھے اور پریشانی کی نوعیت بہت سنگین تھی۔

یہ اندازہ ان کو سمجھنے والا بآسانی لگا سکتا تھا۔
”میں دیکھوں اندر جا کے…؟ شاید پاپا کی طبیعت ٹھیک نہ ہو…؟“
فضہ کی بے چینی عروج پہ جا پہنچی۔ ایمان نے اُسے گھور کر دیکھا تھا۔
”ماما کے آنے کا تو انتظار کرو۔ صبر تو تم میں ہے ہی نہیں۔ “
وہ اطمینان سے کبابوں سے انصاف کر رہی تھی۔ فضہ گہرا سانس کھینچ کر رہ گئی۔

مگر جب خاصی دیر تک ماما بھی باہر نہیں آئیں تو فضہ کا ضبط جواب دینے لگا۔ وہ اُٹھی تھی اور آہستگی سے چلتی اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئی۔ ایمان کی پکار کو نظر انداز کرتے ہوئے۔ ایمان کو اس کی اس بے اعتنائی پہ غصہ سا آیا تھا مگر کاندھے اُچکا کر وہ اپنے گو د میں رکھے سیل فون کی سمت متوجہ ہو گئی جس پہ اس کی فرینڈ نیہاں کا میسج آرہا تھا۔ نیہاں اس سے کل کالج آنے یا نہ آنے کے متعلق پوچھ رہی تھی۔
وہ اُسے جواب لکھنے بیٹھ گئی۔

”میں نہیں آؤ ں گی تم بھی مت جانا۔“

”کیوں…؟ کل تم ڈولی چڑھ رہی ہو کیا…؟آرام سے چلی آؤ ورنہ اغواء کروا لوں گی۔“
نیہاں نے اگلے ہی لمحے پھر لتاڑ بھرا میسج بھیج دیا۔ وہ پڑھ کر مسکرانے لگی۔
”بے چین روح ہو تم…! بہر حال ڈولی نہ بھی چڑھنا ہو، میں نہیں آرہی۔ ہمیں ایگزیم کی تیاری کے لئے کہا گیا ہے، پھر کالج جاکے جھک مارنے کی کیا ضرورت ہے …؟“

”اور گھر پہ میوزک سن کر، موویز دیکھ کر مردوں سے شرط باندھ کر سو کر تم جتنی پڑھائی کر رہی ہو۔
مجھے سب پتا ہے۔“

نیہاں نے اُسے کال کر لی تھی اور اب برس رہی تھی۔ وہ جواباً ہنسنے لگی۔
”تمہیں تو پتا ہے تھوڑا بہت پڑھ کر بھی ٹاپ کر لیتی ہوں، تمہاری طرح کوڑھ مغز نہیں ہوں۔“
”بکو مت…! مجھے اشعر سے ملنا ہے۔ بس تم آرہی ہو۔“
نیہاں کے لہجے میں دھونس بھری تڑی تھی وہ چلبلا اُٹھی۔
پھر تو ہرگز نہیں آؤں گی۔ سخت زہر لگتا ہے مجھے تمہارا وہ مائیکل جیکسن…؟“
اُسے سوکھا سڑا، بانس سا اشعر، ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا، مگر نیہاں اس سے زیادہ اس کی شاعری پر ریج گئی تھی۔
اشعر کا دعویٰ تھا وہ آنے والے وقتوں میں بہت بڑا شاعر بننے والا ہے۔

”بکواس مت کرو…! خبردار جو اُسے کچھ کہا ہو تو…؟“
نیہاں حسب توقع بھڑک اُٹھی۔ وہ زور زور سے ہنسنے لگی اُسے چڑا کر ایمان کو ہمیشہ ہی بہت لطف آیا کرتا تھا۔
”اگر تمہاری یہ فضول گوئی ختم ہو گئی ہو تو میری بھی سن لو…!“

فضہ تقریباً پچھلے پانچ منٹ سے اس کے سامنے کھڑی گویا اس کی توجہ کی منتظر تھی۔
بالآخر تلخی سے بولی۔ ایمان نے ایک نگاہ غلط انداز سے ڈالی اور گفتگو کو سمیٹنے کی غرض سے بولی تھی۔
”اوکے نیہاں…! میں چلوں گی تمہارے ساتھ کل کالج، کیا یاد کرو گی…؟ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔“
انداز احسان جتلانے والا تھا۔ نیہاں کھی کھی کرنے لگی۔
”کوئی ضرورت نہیں ہے کل کالج جانے کی…؟“

فضہ نے اُسے سیل فون ٹیبل پہ رکھتے دیکھ کر کسی قدر تلخی سے کہا تو ایمان نے چونک کر اُس کی صورت دیکھی جہاں خفگی کے ساتھ تلخی وپریشانی کا عکس بھی بہت واضح تھا۔

”غصہ کس بات پہ آرہا ہے…؟ ماما نے ڈانٹ تو نہیں دیا…؟ میں نے منع بھی کیا تھا۔ انتہائی غیر معقول حرکت کی مرتکب ہوئی ہو، میاں بیوی کی پر سنل گفتگو کو سننے کی کوشش میں…؟“
وہ اس غیر سنجیدگی سمیت مسکراہٹ ہونٹوں میں دبائے شرارتی انداز میں کہہ رہی تھی۔ فضہ نے بہت جھلا ہٹ آمیز نظروں سے اُسے گھورا تھا۔

”فارگاڈسیک…! ایمان…! کبھی تو سنجیدہ بھی ہو جایا کرو۔

اس نے جیسے ماتھا پیٹ لیاتھا۔ ایمان نے منہ بنا لیا۔
”کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے آخر…؟ کچھ بتاؤ بھی … ؟“
”پہاڑ تو واقعی ہی ٹوٹا ہے۔ اب جو بیتے گی وہ مجھ پر، اکیلی پہ نہیں بیتے گی۔ ماما کا موڈ سخت آف ہے۔“
”تم سسپنس پھیلانا موقوف کرو اورمجھے اصل بات بتاؤ…!“
ایمان نے اب کی مرتبہ اُسے ٹوک دیا تھا۔ فضہ نے ایک ملول قسم کی سانس بھری پھر آہستگی سے بولتی تھی۔

”پاپا کو بزنس میں کسی پریشانی کا سامنا ہے۔ زیادہ تفصیلی مسائل تو شیئر نہیں کئے ہم سے، بس یہ کہہ رہے ہیں، ہم لوگ ماما سمیت گاؤں چلے جائیں اور کچھ عرصہ وہیں رہیں۔ “
”واٹ…؟ گاؤں کیوں…؟“
وہ زور سے چیخی تھی۔

”پتہ نہیں…! مجھے جتنا معلوم ہو سکا، تمہیں بتا دیا ہے۔ ماما بہت اَپ سیٹ ہیں۔ مجھے تو پاپا نے بلاکر اپنی پیکنگ وغیرہ کرنے کا کہا ہے، کل ہمیں یہاں سے جانا ہوگا۔

فضہ بتا رہی تھی اور ایمان کے اندر بھونچال سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
”ایسی کون سی قیامت آگئی ہے آخر کہ ہم یہاں نہیں رہ سکتے…؟تاؤ جی کے گھرکیوں رہیں ہم آخر…؟ امپاسبل…! میں خود پاپا سے بات کرتی ہوں۔ “

وہ تن فن کرتی اُٹھ گئی تھی۔ مگر پاپا سے بات کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ وہ صورت سے ہی اتنے پریشان لگ رہے تھے کہ وہ کچھ اور اُلجھ گئی تھی۔

مختلف سوال پوچھ ڈالے جن کے آدھے اُدھورے غیر مطمئن جواب ملے تھے۔ وہ ذہنی خلجان کا شکار ہونے لگی۔
”آپ جانتے ہیں پاپا…! میرے لئے وہاں رہنا کس قدر دُشوار ہوگا…؟“
وہ اُداس سی ہونے لگی تھی۔

”آئی نو بیٹا…! مگر میں کوشش کروں گا حالات جلدی سنبھال سکوں۔ پھر میں آپ کو واپس بلا لوں گا۔“
انہوں نے اپنی بے حد چہیتی بیٹی کو ایک ایسی تسلی دی جس پر انہیں خود بھی یقین نہیں تھا۔

”میری اسٹڈی بہت متاثر ہوگی۔ میں وہاں پڑھ نہیں پاؤں گی۔ تاؤ جی کے گھر کا ماحول بہت اَن کنفرٹیبل ہے۔“
اس کے پاس لا تعداد جواز تھے۔
”بیٹا…! ابھی آپ کالج سے فری ہو۔ ایگزیم کے دنوں میں آپ کو شہر بلوا لوں گا۔ “
انہوں نے پھر اُسے ڈھارس دی تھی۔
”اپنے پاپا کی مجبوری کا خیال کرو بیٹا…! پاپا آل ریڈی بہت اَپ سیٹ ہیں۔
پلیز…!“
انہوں نے جتنی ہمت سے یہ بات کہی تھی، پھر بھی وہ ان سے سخت خفا ہوگئی تھی۔ رات بھی اس نے کھانا نہیں کھایا تھا اور اب ناشتہ کرنے کو بھی نیچے اُتر کر نہیں آئی۔ حالانکہ پاپا نے ملازمہ کو بھیجا تھا۔
”مجھے بھوک نہیں ہے۔“

اس نے نروٹھے پن سے کہہ دیا تھا۔ اس کا خیال تھا پاپا ہمیشہ کی طرح اُسے منانے آئیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کی خفگی کچھ اور بڑھ گئی تھی۔

نازنین اور ارتضیٰ شاہ کی محبت کی شادی تھی۔ ارتضیٰ شاہ گاؤں کا سادہ مزاج سا لڑکا تھا جسے اپنی اسی سادگی کی بنا پر اپنی بے پناہ وجاہت اور خوب صورتی تک کا بھی احساس نہیں تھا مگر نازنین کو اس کی یہی خوبروئی بھا گئی تھی۔ ارتضیٰ کی سمت پہلا قدم اُسی نے بڑھایا تھا اور پھر یہ فاصلے مٹتے چلے گئے تھے دونوں کی تعلیم مکمل ہوئی تو محبت اس انتہا پہ جا پہنچی تھی جہاں جدائی کا تصور بہت جان لیوا ہوا کرتا ہے۔

نازنین کسی بھی قیمت پہ ارتضیٰ کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ بہت زیادہ امیر نہیں تھے، مگر کھاتے پیتے لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔

”تم اپنے پیرنٹس کو بھیجو میرے گھر…!“
نازنین کے اصرار پہ ارتضیٰ نے جھجکتے ہوئے اماں پہ اپنی پسند ظاہر کی تھی۔


اور اماں جو اپنی بھانجی کے لئے سوچے بیٹھی تھیں، اتنا گھبرائیں کہ رونے بیٹھ گئیں۔

ایسے میں بھابھو آگے بڑھیں تھیں ان کی مدد کو۔ بھابھو جو اماں کی بھانجی اور ناہید کی بڑی بہن تھیں۔
”پریشان مت ہو اماں…! اماں کو میں سمجھا لوں گی۔ ارتضیٰ پڑھ لکھ گیا ہے، اُسے لڑکی بھی اس کے مطابق کی سجے گی۔ “
”یہ کیا بات ہوئی…؟ میں نے تو ناہید…“
”اماں…! ہمیں اپنے بچوں کی خوشی کا خیال رکھنا چاہئے۔ ناہید کے لئے بھی ربّ سوہنا کوئی بہتر فیصلہ ہی کرے گا۔
وہ معاملہ جو گھمبیر ہو سکتا تھا، بھابھو کی نرم طبیعت اور معاملہ فہمی کی بنا پر چٹکیوں میں حل ہوگیا۔
”بہت شکریہ بھابھو…! میں آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ “

ارتضیٰ واقعی بہت مشکور ہوگئے تھے۔ بھابھو گود میں کھیلتے ولید کو کاندھے سے لگا کر تھپکتے ہوتے ہنس پڑیں۔
”کملے…! شکریہ تو غیروں کا ادا کیا جاتا ہے۔ ہم تو تیرے اپنے ہیں۔

اور انہوں نے یہ بات محض کہی نہیں تھی، نبھاکے بھی دکھا دی تھی۔ ارتضیٰ کو اکثر ایسا لگتا، جیسے بھابھو مصطفی بھائی سے بھی زیادہ ان سب سے محبت کرتی ہیں۔ مصطفی بھائی تو سارا دن کھیتوں پہ گزارتے تھے۔ بھابو ہی اماں اور ابے کے ساتھ پیار کرتی اور جس طرح کا ان کا سلوک تھا دونوں ہی بہو کی تعریفوں میں رطلب اللسان رہا کرتے تھے۔ ارتضیٰ کی شادی پہ اماں ابے اور بھائی کے ساتھ بھابھو نے بھی دل کھول کر ارمان نکالے تھے مگر نازنین چند دن کے بعد ہی اُکتاگئی تھیں۔

ارتضیٰ سے واپس شہر جانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔
”چلیں گے بابا…! ابھی کچھ دن تو یہاں رہو۔ سب کیا سوچیں گے…؟“
ارتضیٰ کے سمجھانے پہ وہ ہتھے سے اُکھڑنے لگی تھیں۔
”کیا سوچیں گے…؟سب کو پتا ہے میں یہاں نہیں رہ سکتی۔ “
”مگر کچھ دن تو …“

”کچھ دن بھی نہیں…! دیکھو کتنی گرد ہے یہاں۔ مجھے الرجی ہے گرد سے۔ اسکن دیکھو میری، چند دنوں میں کیسی رف ہوگئی ہے۔
ارتضیٰ…! میں تمہاری بھابھو کی طرح گاؤں کی عورت نہیں ہوں جو تین بچوں کے ساتھ جانوروں اور گھر کی بھی دیکھ بھال کرلیتی ہے۔“

نازنین کے لہجے میں حقارت کے ساتھ ساتھ تضحیک بھی در آئی تھی۔
ارتضیٰ کو بھابھو کے لئے اس کا یہ لہجہ پسند نہیں آیا تھا اور شادی کے محض پانچویں روز ان کی پہلی لڑائی ہوگئی تھی۔ جس کے نتیجے میں اس وقت بیگ تیار کر کے نازنین جانے کو تیار ہو گئی تھیں۔

”یہ کیا کر رہی ہو نازو…! پاگل ہو گئی ہو کیا…؟“
ارتضیٰ صورتِ حال کو بگڑتے دیکھ کر بو کھلا گئے تھے۔
”تمہیں مجھ سے زیادہ اپنی بھاوج کا خیال ہے۔ رہو اس کے کھونٹے سے لگ کر۔ “
انہوں نے پھنکار کر کہا تھا۔ ارتضیٰ اس کی بلند آواز پہ بو کھلا گئے اور اُٹھ کر کمرے کی واحد کھلی کھڑکی بند کی۔
”آہستہ تو بولو…! وہ اتنی اچھی ہیں۔

تمہیں پتا ہے کہ انہی کی وجہ سے ہماری شادی…“

”کیوں آہستہ بولوں…؟میں تمہاری طرح نہ بزدل ہوں نہ کسی سے ڈرتی ہوں۔ اور ان کا احسان ہوگا کوئی، تو وہ تم پر ہوگا، سمجھے…؟ میں بالکل لحاظ نہیں کروں گی۔ “
وہ پہلے سے زیادہ بلند آواز میں پھنکار پھنکار کر بولیں۔ جس سے یہ ہوا تھا کہ ابے کے ساتھ اماں اور بھابھو نے بھی بہت کچھ سن لیا تھا۔
مگر کسی نے بھی ارتضیٰ سے کچھ نہ کہا۔ اماں نے بہت سبھاؤ سے بات کی تھی اور خوش دلی سے انہیں شہر میں جانے کی اجازت دے کر رخصت کر رہا تھا۔

ارتضیٰ کے دل پہ بوجھ تھا۔ شہر میں انہوں نے کاروبار شروع کیا تو پیسے کی ضرورت پیش آئی تھی کہ جس فیکٹری میں وہ منیجر تھے، اس کے اونر کا اچانک انتقال ہوگیا تھا۔ اس کا بیٹا فیکٹری کو اونے پونے بیچ کر خود انگلینڈ جانا چاہ رہا تھا۔
ارتضیٰ چاہتے تھے۔ یہ فیکٹری وہی خرید لیں۔ انہوں نے مصطفی بھائی سے بات کی تو انہوں نے اپنے پاس جمع شدہ پیسہ دے دیا۔ مگر وہ بہت کم تھا۔ بینک سے لون لے کر بھی پوری نہیں پڑ رہی تھی۔

تب مصطفی بھائی نے زمینوں سے ان کا حصہ انہیں دے دیا تھا جسے بیچ کر انہوں نے فیکٹری خرید لی تھی۔ پھر تو گزرتے دنوں کے ساتھ ان کے حالات بدلتے چلے گئے تھے اور اسی حساب سے نازنین کا نخرہ بھی۔
خود تو وہ گاؤں جاتی ہی نہیں تھیں، ارتضیٰ شروع شروع میں دونوں بچیوں کے ساتھ چکر لگا آتے۔

اماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ ابا کبھی کبھار ایک آدھ دن کو آجاتے مگر نازنین کا روّیہ ایسا تھا کہ ابا تو ابا، مصطفی بھائی اور بھابھو نے بھی آنا بہت کم کر دیا تھا۔ اگر مصطفی بھائی آتے بھی تو ارتضیٰ سے آفس میں ہی مل کر چلے جاتے۔
وقت کچھ اور آگے سرک گیا۔

بچے بڑے ہوگئے تھے۔ارتضیٰ اپنی بے تحاشا مصروفیت کے باعث گاؤں کے لئے وقت ہی نہ نکال پاتے۔ مصطفی بھائی موسم کا پھل اور سبزیاں وغیرہ باقاعدگی سے بجھوایا کرتے تو ساتھ میں خالص دیسی گھی، مکئی کا آٹا، ساگ وغیرہ بھی ہوتا۔ نازنین ہر مرتبہ اس سوغات کو پا کر ناک منہ ضرور چڑھایا کرتیں۔

”سو بار منع کیا ہے، مت بھیجا کریں۔ مگر عجیب ڈھیٹ لوگ ہیں، باز ہی نہیں آتے۔

”ماما…! کسی کی محبت کو ایسے بے رُخی اور نخوت سے نہیں ٹھکراتے۔ مجھے تو یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے۔ “
فضہ جی جان سے ساری چیزوں کو سنیت کر رکھتے ہوتے کہا کرتی اور ماما کا موڈ سخت آف ہو جاتا کہ ان کی اس بیٹی کا مزاج اور عادتیں بالکل اپنے باپ جیسی تھیں، جیسی تڑپ ان کے اندر تھی اپنے رشتوں کی، ویسی ہی قدر فضہ کے دل میں تھی۔
”تو اب کی بار تمہارے تاؤ لے کر آئیں تو کہہ دینا، اتنا ہی دے کر جایا کریں جتنا تم دونوں باپ بیٹی کھا سکو۔
میں اور ایمی تو منہ بھی نہیں لگاتیں ان فضول چیزوں کو۔ “

وہ رعونت سے کہتیں اور فضہ منہ ہی منہ میں استغفراللہ پڑھنے لگتی۔ اُسے اکثر خوف آتا ماما کے غرور سے۔
”آپ کو کیا پتا یہ ساری چیزیں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔ میری ساری فرینڈز کو ساگ، مکئی کی روٹی، مکھن، گھی اور گنے وغیرہ کتنے پسند ہیں۔ مانگ کر لیتی ہیں مجھ سے۔ میرا تو کئی بار جی چاہا کہ تاؤ جی سے اور زیادہ کی فرمائش کروں۔

وہ شوخی سے آنکھیں نچا کر بولتی تو ماما اُسے گھورتیں ہوئیں اُٹھ جاتیں۔

اور اب جبکہ ارتضیٰ نے یہ مژدہ سنا تھا کہ انہیں وہاں جا کے رہنا ہے تو انہیں لگ رہا تھا ان کی انا بُری طرح سے مجروح ہوئی ہے۔ان کا ارتضیٰ سے بڑا زور دار جھگڑا ہوا تھا مگر وہ اپنی ضد اور موقف سے نہیں ہٹے تھے۔ ہار انہیں ہی ماننا پڑی تھی اور اس ہار نے انہیں بہت شکستہ کر ڈالا تھا۔

تمہیں مجھ سے گلہ کیا ہے …؟
اچانک بے رُخی اتنی 
بتاؤ تو ہوا کیا ہے 
مناؤں کس طرح تم کو …؟
مجھے اتنا تو بتلا دو 
اگر اب ہو سکے تم سے 
تو یہ احسان فرما دو 
میری منزل محبت ہے
مجھے منزل پہ پہنچا دو 
تمہاری آنکھ میں آنسو 
مجھے اچھے نہیں لگتے
تمہارے نرم ہونٹوں پر 
گلے اچھے نہیں لگتے 
تمہارے مسکرانے سے 
میرا دل مسکراتا ہے
تمہارے روٹھ جانے سے 
میرا دل روٹھ جاتا ہے 

فضہ نے گنگنا تے ہوئے اس کے گلے میں اپنے دونوں باز حمائل کر دئیے تھے جنہیں اگلے ہی لمحے اس نے بہت زور سے جھٹک دیا اور آنسوؤں سے جل تھل آنکھوں میں شکایتیں لئے اُسے دیکھا۔

”بات مت کرو مجھ سے، تم تو بہت خوش ہو گی۔




”اُف…! اتنی بدگمانی…؟“
 فضہ کراہی۔
”یہ لپکتے جھپکتے پیکنگ کرنا، یہ سولہ سنگھار کر کے تیار ہونا، کس سمت اشارہ کر رہا ہے…؟“
وہ پھولے ہوئے منہ کے ساتھ بولی اور فضہ نے کاندھے اُچکا دئیے۔
”میں قسمت اور حالات پہ شاکی ہونے کی بجائے ایڈجسٹمنٹ اور راضی بارضا رہنے پہ یقین رکھتی ہوں۔
کہتے ہیں ناں اللہ کے ہر کام میں ہمارے لئے مصلحت ہو ا کرتی ہے، پھر بھی دیکھو ناں اس سارے ایڈونچر میں کتنی تھرل کا احساس ہے۔ گاؤں جانا، وہاں رہنا اور اور سنا ہے تاؤ جی کے تین تین بیٹے بھی ہیں۔ ہو سکتا ہے ہینڈسم بھی ہوں اور پڑھے لکھے بھی۔ بالکل کہانیوں، ناولز، فلموں کی طرح۔“

فضہ کی خباثت اور شرارت عروج پہ تھی۔ ایمان نے اس کی بڑائی کا لحاظ رکھے بغیر تاک کر اُسے کشن کھینچ مارا تھا۔

”کتنے ہی ہینڈسم اور پڑھے لکھے ہوں، مگر میرا سٹینڈرڈ اتنا نہیں گرا ہے، بہرحال…!“
اس کے لہجے میں تکبر کے ساتھ ساتھ بے اعتنائی اور اپنی ذات کا زعم بھی تھا۔ فضہ ٹھنڈا سانس بھر کے خاموش ہو رہی۔
”چلو مجھے ہی بتا دو، میں تمہاری پیکنگ کردیتی ہوں۔ ویسے پاپا کا خصوصی آرڈر ہے کہ ڈھنگ کے کپڑے ہی وہاں پہن کر جائیں۔“

اُسے آمادہ نہ دیکھ کر فضہ کو ہی اُٹھنا پڑا، مگر ساتھ ہی گویا حد بھی لگا دی۔
ایمان نے چونک کر اُسے دیکھا۔ پیشانی پہ ناگواری کی بہت واضح شکنیں نمودار ہوگئی تھیں۔
”کیا مطلب ہے ان کا اس بات سے …؟“

وہ کس قدر بھڑک کر بولی تھی۔ فضہ جو اس کی وارڈ روب کھولے کھڑی تھی، اس کے کپڑے دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
”بھئی…! سیدھی سے بات ہے۔ پاپا نے وہاں تمام غیر اخلاقی لباس پہننے سے منع کیا ہے۔ صرف شلوار قمیص ہی لے جا سکو گی۔

فضہ کی وضاحت پہ ایمان نے ہونٹوں کو باہم بھینچ لیا۔ اور ڈھونڈ ڈھانڈ کر اپنے دوپٹوں والے سوٹ نکالتی فضہ کو سلگتی نظروں سے گھورنے لگی۔
”تم رہنے دو، میں یہ کام خود کرلیتی ہوں۔“
اس نے درشتی سے ٹوک دیا۔
”ہائیں…؟اتنی جلدی ہار مان لی…؟ کہیں کوئی خیال تاؤ جی کے کسی ہینڈسم بیٹے کا تو نہیں…؟“
فضہ کے شوخ لہجے میں شرارت ہی شرارت تھی۔
ایمان کا چہرہ ایک دم غصے کی سرخی سے دہک اُٹھا۔
”اب اگر تم نے یہ فضول بات دوبارہ کی تو میں سچ مچ تمہارا سر پھاڑ بیٹھوں گی۔ “
وہ بولی نہیں، دھاڑی تھی۔ فضہ خائف سی ہوگئی۔

”اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو…؟ اگر سچ مچ تمہارے دل نے تمہیں دغا دے دیا ہے تو یہ طنطنہ دھرا رہ جائے گا۔ “
وہ اب کی مرتبہ کسی قدر سنجیدگی سے گویا ہوئی تھی۔ مگر ایمان کا دماغ گھوم گیا تھا۔ منہ سے کچھ کہے بغیر اس نے فضہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر دھکیلا تھا اور زور دار آواز کے ساتھ دروازہ بند کر دیا تھا۔ فضہ کی ہنسی کی آواز اس کا دماغ سلگاتی رہی تھی۔






Post a Comment

COMMENT POLICY:
We have Zero Tolerance to Spam. Chessy Comments and Comments with 'Links' will be deleted immediately upon our review.